مہلک انجکشن کی برآمد پر سخت یورپی نگرانی

تصویر کے کاپی رائٹ internet
Image caption امریکہ میں موت کی سزا پر عمل درآمد کرنے کے لیے مہلک اور زہریلے انجکشن دینے کا قانون موجود ہے

یورپی کمیشن نے مہلک انجکشن کی برآمد پر سخت نگرانی عائد کردی ہے۔

یورپی کمیشن چاہتا ہے کہ ایسی دوائیں جیسے سوڈیم تھائیوپینٹل کی برآمد سے پہلے یہ یقین کرلیا جائے کہ ایسی مصنوعات سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران استعمال نہیں کی جائیں گی۔

اس فیصلے کے بعد امریکہ میں مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی شرح میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ امریکہ میں موت کی سزا پر عمل درآمد کرنے کے لیے مہلک اور زہریلے انجکشن دینے کا قانون موجود ہے۔

یورپی حقوق کے گروپس نے یورپی کمیشن کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک مثبت قدم ہے۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے برآمد کی جانے والی کوئی بھی مہلک دوا سزائے موت دینے کے لیے، تشدد کرنے کے لیے، یا کسی اور غیرانسانی سلوک یا سزا دینے کے لیے استعمال نہ کی جائے۔

یورپی یونین کے تمام ستائیس رکن ممالک میں سزائے موت پر پابندی ہے۔ یورپی یونین نے دنیا بھر کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سزائے موت کے قانون کو ختم کریں۔

جو انجکشن سوڈیم تھائیوپینٹل محلول پر مشتمل ہوتے ہیں وہ امریکہ کی چونتیس ریاستوں میں قانونی طور پر موت کی سزا پر عمل درآمد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

یہ تین مہلک دواؤں میں ایسی ہے جسے موت کی سزا پر عمل درآمد کے دوران استعمال کرنے پر ترجیح دی جاتی ہے اور اس کے ذریعے مجرم کو زہریلی دوا دینے سے پہلے مکمل بے ہوش کیا جاتا ہے۔

اس سال کے اوائل میں امریکہ میں یہ دوا تیار کرنے والی کمپنی ’ہوسپیرا‘ یہ دوا بنانا بند کر چکی ہے۔ تاہم یہ دوا اب بھی برطانیہ، اٹلی، جرمنی، آسٹریا اور ڈنمارک میں تیار کی جاتی ہے۔ رواں برس انسانی حقوق کے ادارے رِپریو نے حکومت پر جب مقدمہ دائر کیا تھا تو اپریل میں اس کی برآمد پر برطانیہ نے ہنگامی بنیادوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

اس دوا کی قلت کے باعث امریکہ میں ہونے والی سزائے موت کی شرح میں کمی آئی ہے۔ چند امریکی ریاستوں نے سوڈیم تھائیوپینٹل کو ذخیرہ کر رکھا ہے جبکہ دیگر ریاستیں اس کا متبادل پینٹوباربیٹل استعمال کررہی ہیں تاہم یہ بھی یورپی یونین کی پابندی کے زمرے میں آتی ہے۔

پینٹوباربیٹل تیار کرنے والی ڈنمارک کی کمپنی نے اپنی دوا کے پریشان کن حد تک غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی یہ دوا اس لیے تیار کی گئی ہے کہ اس کی مخصوص مقدار مرگی کے علاج میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کی دوا امریکہ کی جیلوں میں مہیّا نہ کی جائے۔

انسانی حقوق کے ادارے رِپریو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلیئر ایلگر نے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کا فیصلہ ’پہلا مثبت اور اہم قدم‘ ہے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی دوا ساز ادارہ جو اپنی اخلاقی ساکھ کو قائم رکھنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی تیار کردہ دوا قیدیوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال نہ کی جائے۔

اسی بارے میں