شام :’اقوامِ متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ‘

Image caption شام میں گزشتہ نو ماہ سے حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں

شام میں صدر بشار الاسد کی مخالف قوتوں نے ملک کے شمالی مغربی علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر عرب لیگ اور سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی شامی قومی کونسل کا کہنا ہے شام میں دو دن میں پرتشدد واقعات میں ڈھائی سو افراد مارے جا چکے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر صوبہ ادلب میں ’منظم قتلِ عام‘ کا الزام لگایا ہے۔

عرب لیگ کے مبصرین جمعرات کو قیامِ امن کی کوششوں کے سلسلے میں شام پہنچ رہے ہیں۔

پرتشدد واقعات کا سلسلہ ترک سرحد کے قریبی علاقے میں پیر سے شروع ہوا تھا۔

لندن میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی شامی تنظیم کے مطابق شامی فوجی جبل الزاویہ کے علاقے میں واقع دیہات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ایک واقعے میں انہوں نے ایک ہجوم پر گولی چلائی جس سے ایک سو دس سے زیادہ افراد مارے گئے۔

بین الاقوامی میڈیا کی شام میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ کے مہینے سے شروع ہونے والے مظاہروں میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حزبِ اختلاف کے نمائندہ گروپ شامی نیشنل کونسل نے کہا ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل فوج کی کارروائیوں کا نشانہ بننے والے علاقے کو ’محفوظ علاقہ‘ قرار دے۔ گروپ نے سلامتی کونسل اور عرب لیگ سے اس علاقے کے شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

سلامتی کونسل کے مستقل رکن فرانس نے اس اپیل کی حمایت کی ہے۔

دارالحکومت دمشق میں حکام کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی مسلح دہشتگردوں کے گروہوں سے ہے جو ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر عرب ممالک پر مشتمل تنظیم عرب لیگ کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے اس کے مبصرین کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت کے معاہدے پر دستخط کے بعد اب توقع ہے کہ جمعرات تک اس کے مبصرین شام میں داخل ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں