عراق: سلسلہ وار دھماکوں میں تریسٹھ ہلاک

Image caption تشدد کے واقعات میں کمی کے باوجود عراق میں حملے اب بھی معمول ہیں

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم سے کم تریسٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بغداد میں چودہ مقامات کو منظم انداز میں ایک ساتھ نشانہ بنایا گیا اور ان دھماکوں میں ایک سو پچاسی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

جن علاقوں میں دھماکے ہوئے ان میں جنوبی بغداد میں العامل جبکہ وسطی بغداد میں حلاوی اور کرادہ کے علاقے شامل ہیں۔

یہ دھماکے ایسے وقت کیے گئے ہیں جب ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مخلوط حکومت کو خطرات کا سامنا ہے۔

اب تک ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منظم انداز میں اس طرز پر حملے کرنے کی صلاحیت عراق میں صرف القاعدہ کے پاس ہے۔

تشدد کے واقعات میں کمی کے باوجود عراق میں پرتشدد حملے اب بھی معمول ہیں۔

بغداد کے علاقے العامل میں دو دھماکے ہوئے اور دوسرا دھماکہ اس وقت کیا گیا جب امدادی ٹیمیں زخمیوں کی امداد کو پہنچیں۔

ایک استاد رغاد خالد کا کہنا تھا کہ دھماکوں سے شیشے ٹوٹ گئے۔ ’بچے خوفزدہ ہوگئے اور رونے لگے۔ کار میں دھماکہ ہونے کے بعد اس کے کچھ ٹکڑے ہماری بلڈنگ میں آ کر گِرے۔‘

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے بچے پر شیشے کے اتنے ٹکڑے گرِے کہ وہ ان میں چھپ گیا۔ امِ حنین اب دوسرے کمرے میں خوفزدہ بیٹھی تھی اور کہا ’سارے ممالک میں استحکام ہیں، ہمارے ملک میں کیوں نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں