امریکہ میں جوتوں کے خریداروں کا ہنگامہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔

امریکہ میں جوتے بنانے والی کمپنی نائیكي کے مشہور ماڈل ایئر جارڈن کو خریدنے کے خواہشمندگاہکوں نے کئی ریاستوں میں ہنگامہ کیا ہے۔

ریاست كیلفورنيا سے لے کر جارجیا تک کلاسیک ایئر جارڈن جوتوں کے تازہ ترین ماڈل کو خریدنے کے لیےگاہکوں میں کھینچاتانی اور بھگدڑ مچنے کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔

باسکٹ بال کے مشہور کھلاڑی مائیکل جارڈن سے منسوب ایک سو اسّی ڈالر مالیت کا یہ جوتا سب سے پہلے سنہ انیس سو نوے میں منظرِ عام پر آیا تھا اور اس وقت بھی اسی طرح کی بھگدڑ مچی تھی۔

اس وقت بھی یہ جوتا چوروں کا بھی پسندیدہ ہدف بن گیا تھا۔

جمعہ کی صبح واشنگٹن کے قریب سیاٹل میں جوتا خریدنے کے لیے دکان کے باہر کھڑے لوگوں میں مار پیٹ شروع ہوئی اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔

اس واقعہ میں ایک شخص کو پولیس اہلکار پر حملہ کرنے کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔ پولیس افسر مائک مرفي نے کہا کہ ’اسے جوتا بھی نہیں ملا اور وہ جیل بھی گیا ہے۔ یہ اچھے گاہک نہیں تھے۔ یہ مشتعل اور غیرمنظم لوگوں کا گروہ تھا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایئر جارڈن کے خریدار انہیں پہننے سے زیادہ محفوظ رکھنا پسند کرتے ہیں

جارجیا کے علاقے لتھوینيا میں جوتوں کی ایک دکان کا تالا توڑنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ كیلفورنيا کے شہر سٹكٹن میں بھی ان جوتوں کو چرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ریاست مشي گن میں تقریباً سو گاہک زبردستی ایک شاپنگ سینٹر میں داخل ہو گئے۔ اس کے علاوہ شارلیٹ، شمالی کیرولائنا، انڈیاناپولس، انڈیا اور اوماہا اور نبراسکا میں بھی ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ہیں۔

نائیكي کمپنی کے ترجمان نے اس بارے میں اب تک کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

نائیكي کے ایئر جارڈن ماڈل کے یہ جوتے کافی مشہور ہیں. لیکن ان جوتوں کو خریدنے والے انہیں پہننے سے زیادہ محفوظ رکھنا پسند کرتے ہیں۔