ماسکو: وزیراعظم پوتن کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption روس میں رواں ماہ کے آغاز میں متنازع پارلیمانی انتخابات کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہزاروں افراد نے متنازع پارلیمانی انتخابات اور وزیراعظم ولادیمیر پوتن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مظاہرین نے احتجاجی بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ روسی وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

انہوں نے اس موقع پر آئندہ سال صدارتی انتخاب کے امیدوار اور موجودہ وزیراعظم پوتن کو ایک بھی ووٹ نہ دینے کی قرارداد بھی منظور کی۔ یہ قرارداد دس دسمبر کے احتجاجی مظاہرے کے دوران تیار کی گئی تھی۔

مظاہرین کے رہنما ایلکسی نوالینے نے ہجوم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ روسی آئندہ کبھی بھی بدعنوانی برداشت نہیں کریں گے۔ ’میں یہاں لوگوں کا اتنا ہجوم دیکھ رہا ہوں جو کریملن پر قبضہ کر سکتے ہیں لیکن ہم پرامن لوگ ہیں اور یہ ابھی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔‘

انتخابات کے فوری بعد احتجاجی مظاہرہ کرنے پر پندرہ دن کی جیل کاٹنے والے ایلکسی نوالینے نے روسی رہنماوں پر تنقید کرتے ہوئے انھیں ’چور اور دھوکے باز‘ کہا۔ انھوں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ آئندہ احتجاجی مظاہرے میں دس لاکھ افراد شریک ہونگے۔

رواں ماہ کے آغاز پر روس کے پارلیمانی انتخابات میں وزیرِاعظم ولادیمیر پوتن کی پارٹی یونائیٹڈ رشیا کی ایوان میں برتری کم تو ہوگئی لیکن معمولی اکثریت کے ساتھ اب بھی برقرار رہی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں بدعنوانی کی گئی اور نتائج کے اعلان کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مظاہرے شفاف انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں

روس کی وزارتِ داخلہ کے مطابق سنیچر کے مظاہرے میں اٹھائیس ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی ہے تاہم مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب تھی۔

روسی صدر دیمیتری میدویدو نے رواں ہفتے سیاسی اصلاحات کا اعلان کیا تھا تاہم مظاہرین نے اسے ناکافی قرار دیا ہے۔

روس میں سابق سوویت رہنما میخائل گورباچوف سمیت حزب مخالف کے کئی رہنماؤں نے وزیراعظم یوتن سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر روسی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ مظاہرین روس کی اقلیتی رائے کی ترجمانی کرتے ہیں اور روسیوں کی اکثریت آج بھی وزیراعظم کے ساتھ ہے۔

دیمیتری پشکوف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کا احتجاج سن لیا گیا ہے اور ایسے مظاہرے دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں عام سی بات ہیں۔

اسی بارے میں