’دھماکوں میں حکومتی عناصر ملوث ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آج عراق پر جس طرح حکومت کی جا رہی ہے امریکہ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے:طارق الہاشمی

عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی نے عراقی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کو بغداد میں ہونے والے بم دھماکوں کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔

ان سلسلہ وار دھماکوں میں سّتر کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کے فارسی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے طارق الہاشمی نے کہا کہ بغیر کسی رکاوٹ کے اتنے سارے بم کیسے رکھے گئے اس بات کا جواب صرف حکومت ہی دے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے حکومت میں شامل کسی فرد کا ہی ہاتھ ہے۔ کسی اور کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اور یہ پہلا موقع نہیں۔ اس قسم کے حملے کرنا القاعدہ کے بس کی بھی بات نہیں۔ جو ہوا وہ منظم تھا اور یہ دھماکہ خیز مواد نصب کرنے والے افراد بغیر کسی رکاوٹ کے گھومتے رہے اس سے قطع نظر کہ شہر میں ہماری کتنی حفاظتی چوکیاں ہیں اور پھر یہ سب بم ساتھ ہی پھٹے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان دھماکوں کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ حکومت کی سکیورٹی ٹیم کا حصہ ہیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج عراق پر جس طرح حکومت کی جا رہی ہے امریکہ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔

اس سے پہلے جمعہ کو طارق الہاشمی نے وزیراعظم نوری المالكي پر ایک قومی بحران پیدا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیے جانے کے بعد ہی تشدد کا دور دیکھا گیا۔.

انہوں نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ نوری المالكي نے جو دور شروع کر دیا ہے اسے فوراً روکنا کرنا آسان نہیں ہے۔

Image caption تشدد کے واقعات میں کمی کے باوجود عراق میں حملے اب بھی معمول ہیں

عراق میں یہ حالیہ سیاسی بحران امریکی فوجیوں کی عراق سے انخلاء کے اگلے دن ہی دہشتگردی کے الزامات میں عراق میں سنی مسلک کے سینیئر ترین سیاستدان اور ملک کے نائب صدر طارق الہاشمی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد شروع ہوا ہے۔

طارق الہاشمی نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی قسم کی دہشت گرد کارروائی میں ملوث نہیں ہیں۔ وہ اس وقت شمالی عراق میں ہیں جو کہ کردوں کے زیرانتظام نیم خود مختار علاقہ ہے۔

عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی نے بدھ کو ہی کُردوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طارق الہاشمی کو حکام کے حوالے کر دیں۔ ادھر امریکہ کے نائب وزیرِاعظم جو بائیڈن نے عراقی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ تازہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لیے مل جل کر کام کریں۔

اسی بارے میں