’آپریشن کی معلومات افشاء ہونے کا خدشہ تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان فوج کے سرحدی رابطہ افسران کے ساتھ اس آپریشن کی معلومات کا تبادلہ اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ ڈر تھا کہ یہ معلومات افشاء کر دی جائیں گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنی ویب سائٹ پر سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر ہونے والے اس حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستانی فوج کے سوالات کے جوابات

سینٹکام نے کہا ہے کہ رابطہ کاری کے طریقۂ کار میں رکاوٹیں، پاکستانی فوج کی طرف سے فائرنگ اور اس کا تسلسل، اور دوطرفہ عدم اعتماد صورتحال بگڑنے کی وجوہات تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی پیادہ فوجی افغان صوبے کُنہڑ میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پہنچے تھے جب اُن پر سرحد پار سے فائرنگ کی گئی۔ اس پر انہوں نے اپنے دفاع کے لیے فضائی مدد مانگی اور یوں دونوں جانب سے جھڑپیں شروع ہوئیں۔

سینٹ کام کی رپورٹ کے مطابق رپورٹ کے مطابق چھبیس نومبر کو امریکی فوج کے سرحدی علاقے میں آپریشن کی معلومات سرکاری طور پر اتحادی فوج کے سرحدی رابطہ دفتر کو فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق اس آپریشن سے کئی روز قبل مشرقی سرحدی ریجنل کمانڈ کی جانب سے آئساف اور سرحدی رابطہ دفتر کو آپریشن کے بارے میں اطلاع بھیجی گئی تھی۔

’اس اطلاع کے جواب میں آئساف نے ریجنل کمانڈ کو ای میل میں پوچھا کہ کون سی معلومات پاکستانی فوج کے رابطہ افسران سے شیئر کی جا سکتی ہے۔یہ ای میل آئساف نے اس لیے بھیجی کیونکہ سولہ اگست دو ہزار گیارہ کو ریجنل کمانڈ کی جانب سے ایک ای میل بھیجی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کسی قسم کی بھی معلومات کا تبادلہ ریجنل کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈنگ جنرل کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس ای میل کا کوئی جواب نہیں دیا گیا جس کے باعث پاکستانی فوج کے ساتھ معلومات کا تبادلہ نہیں کیا جا سکا‘۔

رپورٹ کے مطابق مشترکہ سپیشل آپریشنز ٹاسک فورس نے پاکستان فوج کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کے لیے ڈوزیئر بنایا لیکن یہ معلومات اس صورتحال میں تھی اگر امریکی ہیلی کاپٹر آپریشن کے دوران پاکستان حدود میں داخل ہو جائیں۔ لیکن یہ معلومات اتحادی فوج کے سرحدی رابطہ دفتر کو اس واقعے کے بعد موصول ہوئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ’سولہ اگست کی ای میل اور پاکستانی فوج کے ساتھ محدود معلومات کے تبادلے کا فیصلہ اس لیے لیا گیا کیونکہ امریکی فوج میں مانا جا رہا تھا کہ آپریشن کے بارے میں معلومات افشاء کردی جاتی ہیں۔ بلکہ پانچ اکتوبر کو اسی قسم کے آپریشن کی معلومات بھی سامنے آ گئی تھیں اور امریکی فوجی پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا‘۔

رپورٹ میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے پاکستان سے کہا ہے کہ سرحد پر موجود پاکستانی چوکیوں اور دیگر تنصیبات کے نقشے کا تبادلہ کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

امریکی فوج کے سربراہ جنرل جیمز میٹس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ اس واقعے سے سبق حاصل ہوا ہے کہ سرحدی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور سرحد کی دونوں جانب اعتماد کو بہتر بنایا جائے۔

اسی بارے میں