جیلوں میں کنوارے پن کے ٹیسٹ پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قاہرہ کی ایک عدالت نے فوجی جیلوں میں زیرِحراست خواتین کے کنوارے پن کے ٹیسٹ روکنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ سامیرہ ابراہیم نامی ایک خاتون کی درخواست پر دیا ہے۔

سامیرہ ابراہیم نے مصر کے فوجی حکام پر الزام لگایا تھا کہ انہیں مارچ میں تحریر سکوائر میں جاری ایک مظاہرے کے دوران حراست میں لیا گیا اور انہیں زبردستی کنوارے پن کا ٹیسٹ دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مصری فوج یہ ٹیسٹ اکثر سزا کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

عدالت میں موجود سینکڑوں کارکنوں نے فیصلے کا نعروں سے خیر مقدم کیا۔

کارکنوں نے مطالبہ کیا تھا کہ حکام مظاہرین کو اس طرح کے ٹیسٹ کرنے پر مجبور کرنے والے ذمہ دار اہلکاروں کو سزا دیں۔

اسی سال ایک مصری جنرل کا بیان آیا تھا کہ فوج نے ایسے ٹیسٹ کا استعمال کیا ہے تاکہ زیرِحراست خواتین بعد میں حکام پر زناء بالجبر کا بےجا الزام نہ لگا سکیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے ٹیسٹ ذلت آمیز ہیں اور جنرل صاحب کی وضاحت صرف ایک بے معنی قانونی تقاضہ ہے۔

اسی بارے میں