’انتخابی نتائج کے جائزے کی گنجائش نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روسی حکام پر حزبِ اختلاف کی بہت سی جماعتوں پر پابندی لگانے کی وجہ سے بھی تنقید کی گئی تھی

روسی وزیرِاعظم ولادیمیر پوتین نے حالیہ انتخابات کے متنازع نتائج پر نظرِثانی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کی سمت واضح نہیں ہے۔

روسی وزیرِاعظم کا یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب چار دسمبر کو ہونے والی پولنگ میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سنیچر کے روز بھی مظاہرے ہوئے۔

وزیرِاعظم ولادیمیر پوتن مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اہم امیدوار ہیں۔

وزیرِاعظم نے کہا ’انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔ پارلیمان نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور سپیکر کا انتخاب ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’اب نتائج کا جائزہ لینے کی گنجائش نہیں ہے۔ نظرِثانی کا صرف ایک قانونی طریقہ ہے اور وہ ہے عدالت میں اپیل۔‘

متنازع انتخابات کے نتائج کے خلاف روس کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں ہزاروں مظاہرین نے شرکت کی۔

یہ مظاہرے وزیرِاعظم پوتین اور صدر دمتری میدودیو کی حاکمیت کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہیں۔

دوسری جانب روسی وزیرِاعظم پوتن نےان مظاہروں کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ مظاہرین کا کوئی یکجا پروگرام نہیں ہے۔ ان کے بہت سے انفرادی پروگرام تو ہیں تاہم یکجا ہدف تک پہنچنے کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے۔‘

سرکاری نتائج کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں وزیرِاعظم پوتن کی پارٹی کو پچاس فیصد سے کم ووٹ ملے ہیں جو کہ سنہ دو ہزار سات میں ملنے والے ووٹوں سے کم ہیں۔

مبصرین نے دھاندلی کے واقعات جیسا کہ بیلٹ باکس بھرے جانے کی اطلاعات دیں اور بتایا کہ الیکشن کمشن کو پوری آزادی نہیں تھی۔

روسی حکام پر حزبِ اختلاف کی بہت سی جماعتوں پر پابندی لگانے کی وجہ سے بھی تنقید کی گئی تھی۔

اسی بارے میں