’جلا وطن ایرانیوں کی بغداد سے منتقلی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

عراق کے دارالحکومت بغداد کے کیمپ میں رہنے والے جلا وطن ایرانی باشندوں کی رہنما کا کہنا ہے کہ کیمپ میں موجود چار سو افراد کیمپ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

پیرس میں موجود گروپ کی رہنما مریم رجاوی نے کہنا ہے کہ کیمپ کو چھوڑنے کا فیصلہ عراقی حکومت کو اچھا تاثر دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

مریم کے مطابق کیمپ میں موجود افراد کا پہلا گروپ بغداد سے باہر موجود ایک امریکی کیمپ میں منتقل ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنے کے علاوہ کیمپ چھوڑ کر جانے والے افراد کو تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس فیصلے سے کیمپ میں بسنے والے ایرانی باشندوں اور عراقی حکومت کے درمیان تنازع ختم ہو جائے گا جو ایک عرصے سے پچیس برس پرانے کیمپ کو ختم کرنا چاہتی تھی۔

یاد رہے کہ یہ کیمپ بغداد کے شمال میں واقع ہے جس میں ایران کی پیپلز مجاہدین کے ارکان رہتے تھے۔

پیپلز مجاہدین سنہ انیس سو پینسٹھ میں شاہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے مقصد کے لیے قائم ہوئی تھی۔ لیکن سنہ انیس سو اناسی میں اس گروپ کے ایران کے مذہبی رہنماؤں سے معاملات بگڑ گئے اور انہوں نے صدام حسین کے دورِ اقتدار میں عراق میں پناہ لے لی۔

سنہ انیس سو اسی سے اٹھاسی کے دوران ایران اور عراق کے درمیان جنگ میں اس گروپ کے اراکین نے ایران کی سرحد کے پار کئی بار چھاپہ مار کارروائیاں کئیں تھیں۔

اسی بارے میں