امریکہ: نئے ہیلی کاپٹر ڈرون کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی فوج پیلی کاپٹر ڈرون بنا رہی ہے جس میں ایک اعشاریہ آٹھ گیگا پکسل کا رنگین کیمرہ نصب ہو گا۔

امریکی فوج کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے باعث زمینی کارروائیوں پر نظر رکھنے کی قابلیت حاصل ہو جائے گی جو پہلے نہیں تھی۔

امریکی فوج کے ایک بیان کے مطابق پہلے تین ہیلی کاپٹر ڈرون اگلے سال مئی یا جون میں افغانستان میں استعمال ہونے شروع ہو جائیں گے۔

امریکی فوج کے مطابق ’یہ ڈرون ایک سال تک استعمال کیے جائیں گے تاکہ خامیوں کا اندازہ ہو سکے اور ان کی تصحیح ہو سکے۔‘

ڈرون اے 160 ہمنگ برڈ (A-160 Hummingbird) سسٹم کو رن وے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ فضا میں ایک مقام پر ساکت رہ سکتا ہے۔ یہ خوبی موجودہ ڈرونز میں نہیں ہے۔

اس ڈرون کی تجرباتی فلائیٹس اگلے سال کے اوائل میں شروع ہوں گی جس کے بعد ان کو مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا جائے گا۔

ان ڈرونز میں نصب کیمرہ ایک سیکنڈ میں دس فریمز لینے کی خاصیت رکھتا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کیمرے کے باعث بیس ہزار فٹ کی بلندی سے 168 مربع کلومیٹر میں موجود افراد اور گاڑیوں کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ اس ڈرون کو اڑانے والے کمانڈ سینٹر میں افراد 65 مختلف سکرینوں پر مختلف مختلف احداف پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ گاڑیاں، لوگ اور اشیاء اگر مختلف سمتوں میں جاتے بھی ہیں تو ان پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

امریکی فوج کے بقول اگر ایک مکان سے کئی افراد نکلتے ہیں اور مختلف سمتوں میں جاتے ہیں تو اب یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کس شخص پر نظر رکھی جائے۔’ہم ان تمام افراد پر ایک ساتھ نظر رکھ سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں