قیادت کی تبدیلی سے پالیسی نہیں بدلے گی

تصویر کے کاپی رائٹ NKTV
Image caption کم جونگ آن شمالی کوریا کے نئے سپریم لیڈر بن چکے ہیں

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ ملک کی قیادت میں تبدیلی کے باوجود اس کی پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

یہ بات ایک بیان میں کہی گئی ہے جو ملک کے آنجہانی رہنما کم جونگ ال کے بیٹے کم جونگ ان کو ملک کا سپریم سربراہ مقرر کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے قومی دفاعی کمیشن نے اس بیان میں کہا ہے کہ وہ جنوبی کوریا سے بات چیت میں اب بھی دلچسپی نہیں رکھتا۔

بیان کے مطابق ’دنیا بھر کے بےوقوف سیاستدان اور سیول کی کٹھ پتلی طاقتیں کسی قسم کی تبدیلی کی امید نہ رکھیں‘۔

اس سے قبل امریکہ نے آئندہ ہفتے اپنا اعلیٰ سطح کا ایک سفیر، مشرقی ایشیا کے دورے پر بھیجنے کا اعلان کیا تھا جو خطے کی صورتحال پر، اتحادی ممالک سے مذاکرات کرے گا۔

امریکی سفیر کرٹ کیمبل اپنے اس دورے میں شمالی کوریا کے نئے رہنما کے متعلق بات چیت کے لیے جاپان، چین اور جنوبی کوریا کے قائدین سے ملاقاتیں کریں گے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں کم جونگ ال کی آخری رسومات کے اختتام پر ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کم جونگ آن کو ملک کا سپریم لیڈر بنانے کا اعلان ہوا تھا۔

کم جونگ آن نے اپنے والد کم جونگ ال کی یاد میں منعقدہ تقریب کی صدارت کی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے اور سرکاری ذرائع ابلاغ نے کم جونگ آن کا تعارف ’جماعت، ریاست اور فوج کا سپریم لیڈر‘ کے طور پر کروایا۔

کم جونگ آن کی عمر تیس سال کے قریب ہے اور وہ فور سٹار جنرل ہیں۔ ان کے والد کم جونگ ال سترہ دسمبر کو انہتر برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

اسی بارے میں