شام:مظاہرے اور جھڑپیں، پینتیس ہلاک

شام (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گزشتہ دنوں شام میں حکومت مخالفین مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے

شام میں حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ہزاروں مظاہرین کو عرب لیگ کے مبصرین کے سامنے احتجاج کرنے سے روکنے کے لیے اُن پر گولیاں چلا دیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق حما، دیرعا اور حمص شہر میں پینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق شہر میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج کے لیے اکھٹے ہونے والے ہزاروں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اسی دوران شام میں موجود عرب لیگ کے مبصرین مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں۔

حکومت مخالف عوام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے نماز جمعہ کے بعد احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کانٹوں سے بھرے بم پھینکے اور اس کے جواب میں عوام نے سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینکے۔

جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیم ’سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران بیس سے زائد مظاہرین اس وقت زخمی ہوئے جب ستر ہزار سے زیادہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کانٹوں سے بھرے بم پھینکے اور آنسو گیس کے گولے داغے۔

حکومت مخالف گروپوں نے عوام سے جمعہ کو بڑے پیمانے پر احتجاج کی اپیل کی تھی۔

سیریا ریولوشن 2011 فیس بک نامی گروپ نے اعلان کیا تھا کہ ’جمعہ کی نماز کے بعد ہم اپنا سینہ کھول کر احتجاج کریں گے۔‘

’ہم بالکل اسی طرح سے احتجاج کریں گے جس طرح سے ہم نے حمص اور حما میں احتجاج کیا تھا۔ صدر بشر الاسد کی فوج کی مشین گن اور گولیوں کے جواب میں ہم نے اپنے ہاتھوں میں زیتون کی شاخیں لی تھیں۔‘

شام میں حزب اختلاف کی جماعت کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز آٹھ افراد کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں لیکن ان ہلاکت کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔

مظاہروں کی تازہ اپیل ایک ایسے موقع پر کی گئی تھی جب عرب لیگ کے مبصرین شام کے دورے کے دوران مختلف شہروں کا دورہ کر کے، اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صدر بشار الاسد کی حکومت حزبِ مخالف کے کارکنوں پر تشدد کے خاتمے کے وعدے کی کس حد تک پاسداری کر رہی ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شام میں عرب لیگ کے مبصرین کی آمد پر پرتشدد واقعات میں کمی کی بجائے بظاہر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف جمعرات کو ہی حزبِ مخالف نے فوج پر چالیس افراد کی ہلاکت کا الزام لگایا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق مظاہروں کی اپیل کا ایک مقصد مبصرین کو یہ دکھانا ہے کہ عوام کی کتنی بڑی تعداد حکومت کی جانب سے جمہوریت نواز تحریک دبائے جانے پر ناخوش ہے۔

عرب ليگ کی جانب سے مداخلت کا مقصد شام میں کشیدگی کو ختم کرنا، فوج کی واپسی اور حراست میں لیے گئے سبھی افراد کو رہا کرانا ہے۔

عرب لیگ کے مبصرین منگل کو شام پہنچے تھے اور انہوں نے جمعرات کو شام کے تین شہروں حُمص، درعا اور ادلِیب کا دورہ کیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر تشدد اور ہلاکتوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔

شام کی ایک غیر سرکاری تنظيم ’لوکل کورڈینشن کمپنی‘ ، جو احتجاج منعقد کرانے کے علاوہ اس کو قلمبند بھی کرتی ہے کا کہنا ہے کہ جب سے عرب لیگ کے مبصرین شام پہنچے ہیں تب سے اب تک ایک سو تیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چودہ ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ حکومتی کریک ڈاؤن میں مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں