’بیٹے کے قتل کی اطلاع فیس بک سے ملی‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انوج کو پیر کو سیلفرڈ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا

برطانیہ میں پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مانچسٹر میں قتل ہونے والے بھارتی طالبعلم کی ہلاکت کی خبر ان کے رابطہ کرنے سے قبل ہی مقتول کے والدین تک فیس بک کے ذریعے پہنچ گئی تھی۔

پولیس نے کہا ہے کہ حکام نے انوج بدوے کے اہلِخانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

معاملے کی تفتیش کرنے والے اسسٹنٹ چیف كانسٹیبل ڈان كوپلي نے بتایا ’اس سے پہلے کہ افسر انوج کے گھر والوں سے رابطہ کر پاتے ، انوج کے والد سبھاش بدوے نے فیس بک پر قتل کی خبر پڑھ لی تھی‘۔

سبھاش بدوے نے کہا ہے کہ حکام کی تصدیق سے پہلے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے ذریعے بیٹے کے قتل کی اطلاع پا کر انہیں کافی برا لگا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ پولیس نے مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا جبکہ انوج کے موبائل میں میرا نمبر تھا‘۔

وہیں گریٹر مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ انوج کے مارے جانے کے بعد ایک افسر کو اس کام پر لگایا گیا تھا کہ وہ مقتول کے خاندان کے بارے میں معلوم کر کے ان سے رابطہ کرے لیکن بدقسمتی سے فیس بک پر پہلے ہی کسی نے یہ معلومات ڈال دیں۔

انوج کو پیر کو سیلفرڈ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ لنكاسٹر یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم انوج اپنے آٹھ دوستوں کے ساتھ سیلفرڈ میں کرسمس کی چھٹیاں گزار رہے تھے کہ سڑک پر اچانک سامنے سے آنے والے دو افراد نے ان بھارتی طلباء سے کچھ لمحات بات چیت کی اور پھر ان میں سے ایک نے انوج بدوے کی كنپٹي پر گولی مار دی۔

پونے سے بی بی سی سے بات چیت میں انوج کے والد نے کہا کہ ان کا بیٹا ایک مہذب، شائستہ مزاج کا مالک لڑکا تھا اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسے کیوں مارا گیا۔

سبھاش بدوے نے کہا کہ ان کی ترجیح انوج کی لاش جلد سے جلد بھارت لانا ہے لیکن برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کے اس مرحلے پر لاش نہیں دے سکتی لیکن خاندان کی خواہشات کا احترام کرنے کے لیے وہ ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔

پولیس اس قتل کو ایک نفرت پر مبنی جرم مان رہی ہے اور قتل کے محرک کے طور پر نسل پرستی کے جذبے سے انکار نہیں کر رہی۔

قتل کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے تین نوجوانوں کو ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ دو ابھی حراست میں ہی ہیں۔