شام: ’نشانچیوں کو چھتوں سے ہٹایا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

اطلاعات کے مطابق شام میں عرب لیگ کے مصبرین نے چھتوں پر موجود نشانچیوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جرمنی کے خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مبصرین نے شامی حکومت سے ان افراد کو چھتوں سے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب شام میں حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ہزاروں مظاہرین کو عرب لیگ کے مبصرین کے سامنے احتجاج کرنے سے روکنے کے لیے اُن پر گولیاں چلا دیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق عرب لیگ کے مبصرین کے حما، دیرعا اور حمص شہر کے دورے کے دوران پینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ حکومتِ مخالف کا کہنا ہے کہ حکومت نے مظاہرین کو منشر کرنے کے لیے کانٹوں بھرے بم اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

درین اثناء اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ شام حکومت کے مطابق جھڑپوں میں دو ہزار سکیورٹی اہلکار مارے جا چکےہیں۔

واضح رہے کہ شام میں غیر ملکی میڈیا کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے آزاد ذرائع سے ان اعدادو شمار کی تصدیق مشکل ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شام میں عرب لیگ کے مبصرین کی آمد پر پرتشدد واقعات میں کمی کی بجائے بظاہر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف جمعرات کو ہی حزبِ مخالف نے فوج پر چالیس افراد کی ہلاکت کا الزام لگایا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق مظاہروں کی اپیل کا ایک مقصد مبصرین کو یہ دکھانا ہے کہ عوام کی کتنی بڑی تعداد حکومت کی جانب سے جمہوریت نواز تحریک دبائے جانے پر ناخوش ہے۔

عرب ليگ کی جانب سے مداخلت کا مقصد شام میں کشیدگی کو ختم کرنا، فوج کی واپسی اور حراست میں لیے گئے سبھی افراد کو رہا کرانا ہے۔

عرب لیگ کے مبصرین منگل کو شام پہنچے تھے اور انہوں نے جمعرات کو شام کے تین شہروں حُمص، درعا اور ادلِیب کا دورہ کیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر تشدد اور ہلاکتوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔

شام کی ایک غیر سرکاری تنظيم ’لوکل کورڈینشن کمپنی‘ ، جو احتجاج منعقد کرانے کے علاوہ اس کو قلمبند بھی کرتی ہے کا کہنا ہے کہ جب سے عرب لیگ کے مبصرین شام پہنچے ہیں تب سے اب تک ایک سو تیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران چودہ ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ حکومتی کریک ڈاؤن میں مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں