کابل سنٹرل جیل کی بجلی کاٹنے کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کابل میں کئی حکومتی دفاتر بجلی بلوں کے نادہندگان میں شامل ہیں۔

افغانستان میں بجلی پیدا کرنے والی قومی ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ملک کی مرکزی جیل نے آئندہ چند ہفتوں میں اپنے بجلی کے بلوں کے بقایا جات ادا نہ کیے تو ان کی بجلی کاٹ دی جاے گی۔

’دا افغانستان برشنا شرکت‘ نامی ادارے کا کہنا ہے کہ کئی دوسرے حکومتی ادارے جنہوں نے بل ادا نہیں کئے ان کے خلاف بھی ایسے ہی اقدامات کئے جائیں گے۔

یہ ادارہ پورے افغانستان میں بجلی کی پیداوار اور تقیم کا انتظام سنبھالتا ہے۔ کمپنی کو تقریبا چار کروڈ ڈالر کے بلوں کی عدم ادائیگی کا سامنا ہے۔

کپمنی کے ایک اہلکار میر وائز علیمی نے بی بی سی کو بتایا کہ سینٹرل جیل بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے معاملے میں ان کا بدترین صارف ہے۔ ان کے مطابق جیل پرتقریبا بیس لاکھ ڈالر کے بل واجب الادا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے سنٹرل جیل کو خبردار کرنے کے لیے دن کے اوقات میں اس کی بجلی منقطع کر دی ہے۔‘

دوسری جانب کابل کی سینٹرل جیل کے سربراہ جنرل عامر محمد جمشیدی کا کہنا ہے کہ وہ وزرات خزانہ کی جانب سے جیل کا بجٹ کی منظور کیے جانے کے انتظار میں ہیں اور جیسے ہی انہیں پیسے ملیں گے وہ بلوں کی ادائیگی کر دیں گے۔

کپمنی کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل ادا نہ کرنے کے صورت میں متعدد صوبائی گورنر اور پولیس سربراہان کے دفاتر کی بجلی بھی کاٹنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ انصاف جو کہ جیلوں کا انتظام سنبھالتی ہے، اور وزارتِ اطلاعات اور ثقافت، اعلی تعلیم اور مواصلات کے وزاراء بھی بڑے نادہندگان میں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کابل میں ریاستی ریڈیو اور ٹیلی وژن نے بھی گذشتہ ایک برس سے بجلی کے بل ادا نہیں کیے ہیں۔

کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہے وہ صارفین سے بلوں کی ادائیگی کے لیے باقاعدگی سے اپیل کرتے رہے ہیں لیکن ان کے مطالبے کو ہمیشہ درگذر کیا جاتا رہا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بعض نادہندگان کے خلاف عوامی مفاد میں کارروائی نہیں کی جاسکتی جن میں کابل کے پانی کی فراہمی کا محکمہ شامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

لیکن میر وائز علیمی نے محمکہء دفاع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑا صارف ہونے کے باوجود اس محکمے نے تمام بل ہمیشہ وقت پر ادا کیے ہیں۔

اسی بارے میں