امن مذاکرات کی بحالی پر پیش رفت نہ ہوسکی

اسرائیل اور فلسطین کے مذاکرات کاروں کے درمیان منگل کو تقریباً ایک سال کے تعطل کے بعد امن مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے ہونے والے ملاقات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔

اس ملاقات کے حوالے سے کوئی خاص توقعات تو قائم نہیں کی گئی تھیں لیکن اردن میں جہاں یہ ملاقات ہوئی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بات اہم ہے کہ فریقین نے بات چیت کرتے رہنے پر اتفاق کیا ہے۔

منگل کو اردن کے دارالحکومت عمان میں ہونی والی ملاقات میں اسرائیل کے سفارت کار ضڈزہک اور فلسطینی مذاکرات کار صائب ارِکات شامل تھے۔

ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کے چار ملکی اتحاد کےسفیر، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اراکین سمیت امریکہ اور روس نے بھی شرکت کی۔

تاہم اسرائیل اور فلسطین نے امن مذاکرات کی جلد بحالی کے امکانات کو مسترد کیا ہے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کنولی کا کہنا ہے کہ فریقین نے ملاقات سے پہلے مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے کوئی حوصلہ افزا اقدامات نہیں اٹھائے۔

ملاقات سے قبل فلسطینی مذاکرات کار صائب ارکات نے راملہ میں ایک اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ ہم امید کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت یہودی بستیوں کی توسیع پر پابندی اور دو ریاستوں کے نظریے کو تسلیم کرتے ہوئے اردن کی کوششووں کا جواب دے گی۔‘

فلسطینی کی اسلامی تنظیم حماس نے اسرائیل اور فلسطین کے مابین اردن میں ہونے والی ملاقات کی مخالفت کی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے ترجمان سمی ابو ظوہری کا کہنا ہے کہ’یہ ملاقات ناکام پالیسی کا ہی تسلسل ہے، حماس فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس طرح کی تمام ملاقاتوں کو بائیکاٹ کرے جو سیاسی طور پر خطرناک ہیں۔‘

ستمبر دو ہزار دس میں یہودی بستوں کی تعمیر پر لگی پابندی کی مدت ختم ہونے کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مزاکرات بھی معطل ہو گئے تھے۔

اسرائیل کے دسمبر دو ہزار گیارہ میں مزید یہودی بستوں کی تعمیر کے اعلان کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام علاقائی اور سیاسی گروپوں نے کہا تھا کہ یہودی بستیوں کی مسلسل تعمیر سےمستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ انیس سو سڑسٹھ سے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں ایک سو کے قریب بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ یہ بستیوں عالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

اسی بارے میں