زنانہ زیر جامہ کی دکانوں پر خواتین ملازم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب میں اب خواتین کے زیر جامہ مرد نہیں بیچیں گے۔

سعودی عرب میں زنانہ زیر جامہ لباسوں کی دکانوں پر صرف خواتین ملازمین کے ہونے کے متعلق جو نیا قانون وضع کیا گيا تھا اس کا اب نفاذ ہو رہا ہے۔

ابھی تک ایسی دکانوں پر بھی مرد ہی ملازم ہوتے تھے جس سے خواتین کو شاپنگ کرنے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔

جو لوگ اس کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں انہیں امید ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے خواتین کے لیے اپنے ملبوسات کی شاپنگ کرنے میں آ‎سانی ہو گی۔

سعودی عرب میں دکانوں پر خواتین کو ملازمت کی اجازت نہیں تھی اور کافی دنوں سے خواتین اس مسئلے پر شکایات کرتی رہی تھیں۔

کچھ دنوں سے اس کے لیے بہت سی خواتین رضاکاروں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی مہم چلا رکھی تھی۔

شاہ عبداللہ نے اس سے متعلق ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے مطابق دکانوں پر خواتین کے زیر جامہ کو مردوں کو بیچنے کی اجازت نہیں ہوگي۔ اس کا اب پورے ملک میں نفاذ کیا جارہا ہے۔

ریڈیو جدہ سے منسلک ایک صحافی ثمر فطنی کا کہنا تھا ’اب وقت آگیا ہے، یہ ایک طویل جدو جہد تھی اور اب جا کر حکام کے بھی آنکھ کان کھلے ہیں۔‘

ثمر کہتی ہیں کہ اکثر خواتین دکان پر مردوں کو اپنے انڈر ویئرز کا سائز بتانے کے بجائے بیرونی ممالک میں شاپنگ کرنے کو ترجیح دیتی آئی ہیں۔

اس مہم کی تیزی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نوجوان خواتین جو کام کی تلاش میں نکلتی ہیں لیکن انہیں بازاروں میں کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب میں بس اشرافیہ طبقے کی وہ خواتین ہی حکومت کے دفاتر یا ہسپتالوں میں کام کرتی ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہو۔

لیکن اس نئے قانون کے نفاذ سے تقریباً چالیس ہزار ایسے نئے روز گار پیدا ہونگے جس میں وہ خواتین بھی کام کرسکیں گی جنہیں شاید کبھی ایسے مواقع نہیں مل پائے۔

اس سے پہلے سعودی عرب کے ایک مفتی اعظم نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ چونکہ شرعی طور پر منع ہے اس لیے خواتین کو دکانوں پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

سعودی اخبار الشرق الاوسط کے مدیر عابر مشخاص کا کہنا ہے ’ملک میں پہلے ہی سے آزاد خیال اور مذہبی قدامت پرستوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول ہے اوریہ مسئلہ مذہبی گروپوں کو مشتعل کر سکتا ہے۔‘

سعردی عرب کی وزارت محنت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پہلے ہفتے ایسے مبصرین مقرر کریگی جو دکانوں پر مقرر کیے گئے نئے ملازمین پر نگرانی کر سکیں تاکہ انہیں کام کے دوران ہراساں نہ کیا جائے۔

امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کاسمیٹک کی دکانوں پر بھی مردوں کے کام کرنے پر پابندی عائد کرنے والی ہے۔

اسی بارے میں