ترکی: سابق فوجی سربراہ گرفتار

جنرل بسبگ
Image caption جنرل بسبگ دو ہزار دس میں ریٹائر ہوئے تھے

ترکی کی فوج کے سابق سربراہ الکر باشبو کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جنرل الکر باشبو سنہ دو ہزار دس میں ریٹائر ہوئے تھے۔ وہ سب سے اعلیٰ فوجی افسر ہیں جن کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان پر ایک دہشت گرد تنظیم کی سربراہی کرنے اور وزیر اعظم طیب اردگان کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے کا الزام ہے۔

جنرل باشبو گزشتہ برس ریٹائر ہوئے تھے اور کافی عرصے سے مسٹر اردگان کی اعتدال پسند اسلامی حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

ترکی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے جب کسی سابق فوجی سربراہ کو مشتبہ ملزم کے طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔

جنرل باشبوگ نے اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کیا ہے۔

اس معاملے میں فوج کے درجنوں حاضر سروس اعلی افسران سمیت تقریباً چار سو لوگوں کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے اور ان پر مختلف الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ جنرل باشبوگ اس سازش کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے والے اعلی ترین افسر ہیں۔

ترکی کے این ٹی وی نیٹ ورک کے مطابق جنرل باشبو نے پوچھ گچھ کے دوران تفتیش کاروں سے کہا کہ ’ہم کہہ سکتے ہیں کہ فوج کی سربراہی کرنے والے شخص پر ایک دہشت گرد تنظیم بنانے اور اس کی سربراہی کرنے کا الزام المناک اور مضحکہ خیز ہے۔‘

ترکی میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ سخت گیر موقف رکھنے والے ایک قوم پرست گروپ نے سن دو ہزار تین میں وزیر اعظم طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش رچی تھی۔

جنرل باشبو کے وکیل ایلکے سیزر کا کہنا ہے 'ترکی کی فوج کے چھبیسویں سربراہ کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش اور ایک دہشت گرد تنظیم بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جنرل باشبو کی گرفتاری کے بعد ان کے مداحوں نےاس جیل کے باہر مظاہرہ کیا جہاں انہیں لے جایا گیا ہے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے کہ عوام اور فوج کو ملکر چلنا چاہیے۔

ترکی میں فی الحال اس کیس کے سسلسلے میں کئی مقدمات چل رہے ہیں۔ گرفتار کیے جانے والے کچھ فوجی افسران یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ایک چین آف کمانڈ کے تحت کام کر رہے تھے یعنی وہ اپنے اعلی افسران کے احکامات پر عمل کر رہے تھے۔

نیٹو اتحاد میں ترکی کی فوج نفری کے لحاظ امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے اور خود کو ملک کے سیکولر آئین کا محافظ مانتی ہے۔

انیس سو ساٹھ اور انیس سو اسی کے درمیان فوج تین مرتبہ حکومت کا تختہ الٹ چکی ہے۔ لیکن مسٹر اردگان کی حکمراں اے کے پارٹی سے فوج کے روابط تلخ رہے ہیں اور گزشتہ تقریباً ڈھائی برس سے ان مبینہ سازشوں کے سلسلے میں ان کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری رہی ہے۔

ترکی میں ایک حلقے کا الزام ہے کہ مبینہ سازش کی تفتیش کے دوران ان لوگوں پر ہی توجہ مرکوز کی گئی ہے جو حکومت کے خلاف رہے ہیں۔ لیکن حکومت جانبداری کے الزامات سے انکار کرتی ہے۔

اس کیس کی وجہ سے بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان گزشتہ برس جولائی میں مستعفی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں