مصر: محمد البرادی کا انتخابات سے بائیکاٹ

البرادئی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption البرادئی کو آزاد خیال امیدواروں میں شمار کیا جاتا تھا

مصری سیاست دان اور عالمی جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کے سابق سربراہ محمد البرادی نے اس سال کے وسط میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے احتجاجاَ َ دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔

محمد البرادی جنہیں دوہزار پانچ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ مصر کے فوجی حکمرانوں کے طرزِ حکومت کے خلاف بطور احتجاج کیا ہے جو اس طرح حکومت کر رہے ہیں جیسے کوئی انقلاب ہی نہ آیا ہو۔

یاد رہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے گزشتہ سال فروری میں اٹھارہ دن کے شدید احتجاج کے نتیجے میں اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد حکومت فوجی کونسل چلا رہی ہے۔

صدارتی انتخابات اس سال جون میں ہونے ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی عربی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ البرادئی کو آزاد خیال امیدواروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

اپنے بیان میں محمد البرادی نے مصر کے نوجوانوں کو سراہا جنہوں نے حسنی مبارک کے خلاف تحریک چلائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میرا ضمیر مجھے انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں دیتا جب تک کہ وہ جمہوری انداز میں نہ منعقد ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مصر میں جو صورتِ حال رہی ہے اور اس کی جو تصویر ہمارے سامنے آئی ہے، پچیس جنوری کے واقعات جب مصر میں انقلاب کی ابتداء ہوئی، اُس وقت تو یہ تصویر بہت اچھی لگ رہی تھی اور لگتا تھا کہ اس میں مصر کے عوام کا بھی حصہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دنیا کو ایک منفرد تصویر دکھائی تھی۔ مگر میرا آج کا فیصلہ مصر کے عوام کا فیصلہ ہے کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ حکومت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔‘

البرادئی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا انتخاب جیتنے کا کبھی کوئی امکان تھا ہی نہیں۔

البرادئی چاہتے تھے کہ انتخابات سے پہلے آئین کا ڈھانچہ تیار کرلیا جائے مگر مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے پہلے عام انتخابات کروانے کو ترجیح دی ہے۔

مصر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ ابھی حال ہی میں ختم ہوا ہے جس کے بعد پارلیمان کا ایوانِ زیریں سو ارکان کا انتخاب کرے گا جو آئین تشکیل دیں گے۔

اسی بارے میں