لواحقین کا بلیک واٹر سے سمجھوتہ

بلیک واٹر کمپنی کا ہیلی کاپٹر
Image caption بلیک واٹر کا نیا نام اکیڈمی ہے

عراق کے شہر فلوجہ میں سنہ دو ہزار چار میں ہلاک ہونے والے چار امریکیوں کے اہل خانہ نے اس سکیورٹی کمپنی سے سمجھوتہ کر لیا ہے جس کے لیے یہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد کام کرتے تھے۔

مذکورہ چاروں افراد بلیک واٹر نامی سکیورٹی کمپنی میں ملازم تھے جب انہیں فلوجہ میں فائرنگ کر کے اور آگ لگا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ان میں سے دو افراد کی لاشوں کو ایک پل سے بھی لٹکایا گیا تھا۔ اس بات کا امریکہ میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور فلوجہ پر حملے کا بھی باعث بنا تھا۔

بلیک واٹر پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ملازمین کو مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

جمعہ کو اعلان کیا گیا تھا کہ ان چاروں افراد کے اہل خانہ اور بلیک واٹر کے درمیان خفیہ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد یہ لوگ اس معاملے پر پبلک انکوائری کا اپنا مطالبہ ختم کر دیں گے۔

امریکہ میں ’دی ورجینین پائلٹ‘ نامی اخبار نے،جس میں اس خفیہ معاہدے کی خبر سب سے پہلے شائع ہوئی، کہا ہے کہ انکوائری کے صورت میں یہ اس دور میں جنگی احتساب کے میدان کا ایک تاریخی مقدمہ بن سکتا تھا جب جنگیں بھی نجکاری کے عمل کا حصہ بن چکی ہیں۔

بلیک واٹر کے ملازمین ویزلے بتالونا، سکاٹ ہیلونسٹن، مائیکل ٹیگ اور جیری زووکو دو گاڑیوں میں بسوں کے ایک کارواں کے ساتھ سفر کر رہے تھے جو ایک امریکی فوجی اڈے سے کچھ سامان لینے جا رہا تھا۔

راستے میں ان چاروں پر حملہ کیا گیا اور گولیوں سے ہلاک کرنے کے بعد مشتعل ہجوم نے ان کی لاشوں کو گھسیٹا۔

ہلاک ہونے والے سکاٹ ہیلونسٹن کے بھائی نے،جو بلیک واٹر کمپنی کے خلاف مقدمے کا حصہ نہیں تھے، کہا کہ مقدمہ ختم کر کے حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سکاٹ کے بھائی جیسن نے کہا کہ وہ بلیک وار کمپنی کے ساتھ معاہدے سے بالکل حیران نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ابتداء سے ہی یقین تھا کہ اس مقدمے کے ساتھ یہی ہوگا۔

انہوں نے کہا وہ اس ناانصافی پر خدا سے ہی رجوع کر سکتے ہیں۔ تاہم سکاٹ کی اہلیہ نے کہا کہ یہ ابھی طے نہیں ہوا کہ سکاٹ کے بچوں کو کتنی رقم ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ معاملہ ختم ہوا۔ ’یہ ایک مشکل لڑائی تھی اور وکیلوں نے زبردست کام کیا۔‘