امریکی فعل ’انسان دوست‘ لیکن تعلقات پر فرق نہیں: ایران

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آپ کو خدا نے ہماری مدد کے لیے بھیجا ہے: ایرانی ماہی گیر

ایران نے امریکی نیوی کی جانب سے ایران کے تیرہ ماہی گیروں کو صومالی قزاقوں سے چھڑانے کے عمل کو ’انسانیت دوست‘ قرار دیا ہے لیکن کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے امریکی نیوی کی جانب سے ایرانی ماہی گیروں کو چھڑانے کے عمل کو ’انسانیت دوستی‘ قرار دیا لیکن واضح کیا کہ انسانی دوستی کے اس مظاہرے سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

گزشتہ روز امریکی نیوی نے کہا تھا کہ اس نے ایران ماہی گیروں کے ایک گروہ کو سمندری قزاقوں سے آزاد کرا لیا ہے۔

امریکہ نیوی نے کہا تھا کہ اس نے بحرہ عرب میں قزاقوں کی ایک چھوٹی کشتی کو دیکھا جو ایرانی ماہی گیروں کی کشتی کے ساتھ لنگر انداز تھی۔

امریکی نیوی نے کہا کہ اس نے کارروائی کر کے تیرہ ایرانی ماہی گیروں کو قزاقوں کے قبضے سے چھڑا لیا ہے جنہیں کئی ہفتوں سے یرغمال بنایا ہوا تھا۔

ایرانی ماہی گیروں کو امریکی طیارہ بردار جہاز جان سی سٹین نے آزاد کروایا ہے۔ یہ وہی امریکی جہاز ہے جسے ایران نے خبردار کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے دور رہے۔

ایرانی علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایران بھی کئی بار دوسرے ملکوں کے شہریوں کی انسانیت کی بنیاد پر مدد کر چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے موقع پر موجود رپورٹر نے لکھا ہے جب امریکی فوجی ایرانی کشتی ال مولائی میں داخل ہوئے اور ماہی گیروں کو صومالی قزاقوں سے رہا کرایا تو ایک ماہی گیر نے امریکی فوجیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو خدا نے ہماری مدد کے لیے بھیجا ہے۔" امریکی نیوی نے ایرانی کشتی کو تیل اور خوراک مہیا کی تاکہ وہ واپس اپنے ملک جا سکیں۔