لندن بھر میں مفت وائی فائی کا نظام نصب

موبائل کمپنی ’او ٹو‘ لندن کے لاکھوں رہائشیوں اور سیاحوں کو مفت انٹرنیٹ مہیا کرے گی۔

یہ سہولت اس سال ویسٹ منسٹر، کنزنگٹن اور چیلسی کے علاقوں میں فراہم کی جائے گی۔ یہ نظام سڑکوں پر پہلے سے موجود کھمبوں وغیرہ میں انٹرنیٹ کے آلات لگا کر بنایا جائے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نظام کو بنانے میں ٹیکس کی مد میں جمع کیا گیا حکومتی پیسہ بالکل استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کی کابینہ میں مالیات کے نگران رکن کا کہنا تھا ’ویسٹ منسٹر میں ہر سال دس لاکھ سیاح آتے ہیں، ڈھائی لاکھ رہائشی ہیں، پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ یہاں کام کرتے ہیں اور تقریباً چار ہزار نئے کاروبار شروع کیے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’اولمپک مقابلوں میں سیاح با آسانی اپنی تصاویر اور کھیلوں کی خبریں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹوں پہ ڈال سکیں گے۔‘

اوٹو اس مہینے ’میٹرو وائرلس نیٹورک‘ کا نظام نصب کرنا شروع کر دے گی۔ ابتدا میں یہ سہولت چند ہی علاقوں میں دی جائے گی اور پھر اسے شہر کے باقی حصوں میں بھی فراہم کیا جائے گا۔

لندن اس معاملے میں دوسرے بڑے شہروں سے پیچھے رہ گیا تھا۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سینکڑوں وائی فائی زونز ہیں جو کہ پارکوں اور دوسرے عوامی مقامات پر مفت انٹرنیٹ فراہم کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

نیو یارک میں بھی پارکوں میں مفت انٹرنیٹ دستیاب ہے جبکہ پچھلے سال سے اندرونِ شہر چلنے والی ٹرینوں میں بھی انٹرنیٹ تک رسائی کا نظام لگایا جا رہا ہے۔

لندن میں اس نظام کو مارچ تک مکمل کرنے کی امید ہے۔

او ٹو کمپنی کے چیف اپریٹنگ افیسر ڈیرک مکمینس نے کہا ’اس نظام سے ہم لندن بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی کی بہترین سہولت فراہم کر سکیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہمارا بڑا ہدف یہ ہے کہ ہم او ٹو کی وائی فائی سروس کو زیادہ پھیلا سکیں جس سے ہر کوئی فائدہ اُٹھائے اور اس کو سڑکوں کی سطح تک مؤثر بنایا جائے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

انٹرنیٹ سروسز کا تجزیہ کرنے والی ایک آزاد ویب سائٹ ’تھنک بروڈبیند ڈاٹ کام‘ کے جان ہنٹ کا کہنا تھا کہ یہ سہولت انتہائی مقبول ہوگی اور خاص طور پر سیاحوں میں مقبول ہوگی جو کہ موبائلوں کی مہنگی قیمتوں کے بارے میں عموماً فکرمند ہوتے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’ظاہر ہے کہ انٹرنیٹ تک مفت رسائی ایک اچھی چیز ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا یہ نظام اولمپک مقابلوں کی وجہ سے ہونے والے رش کو برداشت کر سکے گا یا نہیں۔‘

اسی بارے میں