نائجیریا: فسادات، سینکڑوں کی نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نائجیریا میں کرسمس کے موقع پر پونے والے بم دھماکوں میں تریسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نائجیریا میں فسادات کے تازہ ترین سلسلے کی وجہ سے سینکڑوں لوگ شمال مشرقی نائیجیریا سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

تشدد کے ان واقعات میں عیسائی برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسلامی شدت پسند تنظیم بوکوحرام نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بوکوحرام کے ایک دھڑ ے نے جنوبی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کو، جن میں زیادہ تر عیسائی برادری کے لوگ ہیں، دھمکی دی ہے کہ وہ شمالی نائیجیریا چھوڑ دیں۔

ریاست اداماوا میں چار تازہ ترین حملوں میں انتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں ریاست میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

اس سے پہلے جمعے کے روز ریاست اداماوا کے علاقے مُوبی میں ایک شخص نے عیسائیوں کے ایک اجتماع پر فائرنگ کر دی جس میں سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ریاست کے دارالحکومت یولہ میں بھی حملوں کیے گئے۔ یولہ میں تمام تجارتی مراکز اور دکانیں بند کرادی گئی ہیں۔

اداماوا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست کے دارالحکومت یولہ میں فوج سڑکوں پر گشت کر رہی ہے۔

موبی میں مارے جانے والے افراد کے بارے میں مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جنوبی علاقوں سے تعلق رکھنے والی ’لگبو‘ نامی برادری کے لوگ تھے۔

جس وقت حملہ ہوا یہ لوگ جمعرات کے روز ہلاک ہونے والے ایک شخص کی لاش کو اپنے علاقے میں لے جانے کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ اس شخص کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار دی تھی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس جاری تھا کہ ایک حملہ آور نے ہال میں آکر اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے فائرنگ شروع کر دی ۔

لگبو برادری سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کی شمالی نائجیریا میں دکانیں اور کاروبار ہیں لیکن اب بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق موبی شہر میں کئی لگبو تاجر دکانیں بند کرکے وہاں سے نقل مکانی کا سوچ رہے ہیں۔

خود کو بوکوحرام نامی تنظیم کا ترجمان بتانے والے ایک شخص نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ گومبے اور موبی میں ہونے والے دونوں حملے ان کی تنظیم نے کروائے ہیں۔

عبدل قاقا کا کہنا تھا ’ہم اپنی کارروائیاں مزید علاقوں تک پھیلا رہے ہیں تاکہ یہ بتا سکیں کہ نائجیریا کی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کرنے سے ہمارے ارادوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ جنوبی علاقوں کے باشندوں کو شمالی علاقوں سے نکل جانے کا الٹی میٹم تھا۔ انہوں نے حکومت نے مطالبہ کیا کہ بوکوحرام سے تعلق رکھنے والے تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

جمعے کی شام گئے یولہ کے چرچ پر ہونے والے حملے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک شخص نے چرچ میں داخل ہو کر فائرنگ کر دی جس سے بعض لوگ ہلاک اور متعدد زحمی ہو گئے۔

ریاست یوب کے شمال مشرقی شہر پوسٹیکُم میں میں پولیس اور بوکوحرام کے مشتبہ اہلکاروں کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے بھی اطلاعات ہیں۔

بوکو حرام نے جنوبی علاقوں کے باشندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ نائجیریا کے مسلم اکثریت والے شمالی علاقوں سے نکل جائیں۔ جنوبی علاقوں کے لوگ زیادہ تر عیسائی اور بھُوت پریت کو ماننے والے ہیں۔

اداماوا ریاست برونو نامی ریاست سے ملحق ہے جہاں بوکوحرام منظّم ہوئی ہے۔

گذشتہ ہفتے صدر گڈلک جوناتھن نے نسلی اور فرقہ وارانہ فسادات کے باعث ملک کی کئی ریاستوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا تھا۔

اسلامی شدت پسند گروپ بوکو حرام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات مُوبی اور گومبی میں ہونے والے حملے اُُس نے کیے ہیں۔ ان حملوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس تنظیم نے حالیہ دنوں میں نائجیریا کے شمالی اور وسطی علاقوں میں متعدد حملے کیے ہیں۔ کرسمس کے موقعے پر دارالحکومت ابوجہ میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

’بوکو حرام‘ لفظ کے معنی ہیں مغربی تعلیم ممنوع اور یہ تنظیم موجودہ حکومت کا خاتمے اور اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہیں۔

گذشتہ برس اس تنظیم کے ہاتھوں پانچ سو افراد ہلاک ہوئے۔ کرسمس کے موقع پر ہونے والے متعدد بم دھماکوں میں سے ابوجہ میں چرچ کے باہر ہونے والے ایک حملے سینتیس افراد ہلاک ہوئے۔

ملک کے عیسائی صدر جوناتھن گڈ لک نے بوکو حرام کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے لیکن ملک کی عیسائی تنظیموں نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کہ تحفظ کے لیے مناسب اقدمات نہیں کر رہے۔

اسی بارے میں