’حکومت اب آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمعے کے روزدمشق میں ہونے والے بم دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت چھبیس افراد کی ہلاک ہوئے تھے۔

شام کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں آہنی ہاتھوں سے کارروائی کی جائے گی۔

یہ بیان دارالحکومت دمشق میں ہونے والے بم دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت چھبیس افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیرِ داخلہ ابراہیم نے کہا ’جو بھی ملک اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے خلاف قدم اٹھائے گا اس کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گی۔‘

دوسری جانب حزبِ مخالف کا الزام ہے کہ یہ دھماکہ خود حکومت نے کروایا ہے تاکہ عرب لیگ کے مبصرین کے سامنے اپنے مخالفین کی ساکھ خراب کی جا سکے۔

عرب لیگ کے مبصرین امن منصوبے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے شام میں موجود ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مبصرین کی آمد کے باوجود حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

شام میں حزبِ مخالف کے اتحاد سیریئن نیشنل کونسل کا کہنا ہے کہ یہ حملہ صدر بشارالاسد کی حکومت نے کروایا ہے تاکہ وہ اپنے نقادوں کی ساکھ خراب کر سکیں۔

سیریئن نیشنل کونسل کے ترجمان عمر ادلیبی کا کہنا تھا ’یہ سب حکومت کے گندے کھیل کا ایک حصہ ہے۔ حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ہم ان حملوں کی تحقیقات کے لیے جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ یہ حکومت نے کروائے ہیں، ایک آزاد بین الاقوامی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

امریکہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں جاری مسائل کا حل تشدد نہیں ہے۔

اسی بارے میں