بحران: امریکہ کو تشدد کے واقعے پرتشویش

نبیل رجب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نبیل رجب ممتاز انسانی حقوق کارکن ہیں

امریکی وزارتِ خارجہ نے انسانی حقوق کے ممتاز کارکن نبیل رجب پر تشدد کیے جانے پر بحرین کی حکومت سے تشویش ظاہر کی ہے۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا اور ان کی کمر، سر اور گردن پر وار کیے گئے۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اس حملے کی تردید کی ہے تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے۔

امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر بحرین میں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مسٹر رجب پولیس کو زمین پر پڑے ملے تھے جہاں سے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ گوکہ یہ معاملہ متنازع ہے لیکن امریکہ کو مجموعی طور پر بحرین میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف ’طاقت کے بے جا استعمال‘ کی خبروں پر تشویش ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار راجیش میر چندانی کا کہنا ہے کہ حالانکہ بحرین میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں کے خلاف عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے تاہم امریکہ کی جانب سے کھلے عام بحرین کی سرزنش ایک غیر معمولی بات ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطی میں جمہوریت حامی تحریکوں کا حامی ہے لیکن بحرین امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے۔

بحرین کے بادشاہ حماد نے حال ہی میں ایک آزاد کمیشن کی اس رپورٹ کے بعد اصلاحات نافذ کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ حکومت مخالف قیدی مظاہرین کے ساتھ جیلوں میں زیادتیاں کی گئیں۔

بحرین میں شیعہ مسلم اکثریت گزشتہ فروری سے مزید حقوق کی تحریک چلا رہی ہے۔

بحرین میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں معمول بن چکی ہیں۔

اسی بارے میں