ایران:’یورینیم کی زیرِ زمین افزودگی شروع‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کا اصرار ہے کہ یورینیم کی افزودگی صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے

اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اپنے انتہائی محفوظ زیرِ زمین مقام پر یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کردیا ہے۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ شمالی ایرانی علاقے فوردو کے مقام پر ایک پلانٹ میں درمیانی سطح کی افزودگی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس کا یورینیم افزودہ کرنے کا ارادہ ہے تاہم اس کا اصرار ہے کہ یہ عمل صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

تاہم مغرب کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کررہا ہے۔

امریکہ نے فوردو میں یورینیم کی افزودگی شروع کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع کو ہوا دینے کے مترداف ہے۔

ایران کے شمالی شہر قُم کے قریب یہ پلانٹ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اِسے سنہ دو ہزار نو میں شناخت کیا۔

تہران کا کہنا ہے کہ اس نے اس پراجیکٹ کا آغاز سنہ دو ہزار سات میں کیا تھا تاہم عالمی جوہری ادارے کو شبہ ہے کہ یہ عمل سنہ دو ہزار چھ میں شروع کیا گیا۔

بی بی سی ایران کے نمائندے جیمس رینالڈز کا کہنا ہے کہ اس جوہری تنصیب نے نہ صرف دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے بلکہ کئی شبہات کو بھی جنم دیا ہے۔

یہ پلانٹ زیرِ زمین ہے اور انتہائی محفوظ ہے جبکہ اس کی حفاظت پر ایرانی فوج تعینات ہے جس کی وجہ سے اس پر فضائی حملہ بھی بہت مشکل ہے۔

تاہم امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی تنصیبات پر حملوں کو نظرانداز کیے جانے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

پیر کو جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی ترجمان گِل ٹوڈر نے کہا ’ادارہ اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی بیس فیصد تک شروع کردی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’اس پلانٹ میں تمام جوہری مواد پر آئی اے ای اے کی نگرانی جاری ہے۔‘

ایران کا اصرار ہے کہ افزودہ یورینیم ایسے آئسوٹوپس بنانے کے لیے درکار ہے جس سے کینسر کے علاج میں مدد ملتی ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیس فیصد یورینیم کی افزودگی جوہری ہتھیار بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ہے کہ اس سطح پر یورینیم کی افزودگی سے ایران کی جانب سے جوہری خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں