صدر بشارالاسد کی تقریر کی عالمی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر اسد نے نو ماہ سے جاری احتجاج کے دوران تیسری بار عوام سے خطاب کیا

امریکہ اور فرانس نے شام کے صدر بشارالاسد کی تقریر کی مذمت کی ہے جنہوں نے اپنے اقتدار کے خلاف ہونے والے احتجاج کو بیرونی سازش قرار دیا تھا۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر اسد نے احتجاج کا ذمہ دار اپنے سوا ہر کسی کو ٹہرایا ہے۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر بشارالاسد کی تقریر سے لگتا ہے کہ حقیقت کو جھٹلایا جارہا ہے۔

صدر بشارالاسد قوم سے خطاب شاذ د نادر ہی کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں شام کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے۔

واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ’اسد نے بیرونی سازش کا الزام لگایا ہے تاہم شام کی صورتحال میں یہ الفاظ اس قدر وسیع ہیں کہ ان میں عرب لیگ، شام کی زیادہ تر حزبِ اختلاف کی جماعتیں اور بین الاقوامی برادری سب شامل ہیں۔ انہوں نے ہر ایک کو ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ شام میں تشدد کی ذمہ داری میں خود کو بری الذمہ قرار دیا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’ان کی تقریر سے ہمارا موقف ظاہر ہوتا ہے کہ اب انہیں اقتدار سے ہٹ جانا چاہیے۔‘

پیرس میں بات کرتے ہوئے فرانس کے وزیرِ خارجہ الین جُپی نے کہا ’اس (تقریر) سے تشدد کو ہوا ملتی ہے اور جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت کو جھٹلانے کی ایک قسم ہے۔‘

شام میں نو ماہ پہلے گزشتہ برس مارچ کے مہینے سے شروع ہونے والے عوامی احتجاج کے بعد منگل کو صدر اسد نے ٹیلی ویژن پر تیسری بار خطاب کیا جو دو گھٹنے تک جاری رہا۔

انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا ’علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں نے ملک کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔‘

صدر بشارالاسد نے کہا ’ہماری ترجیح اپنی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے۔ ہم ایسے افراد سے بالکل نرم برتاؤ نہیں کریں گے جن کے تانے بانے بیرونی طاقتوں سے ملتے ہیں۔‘

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کا ملک عرب لیگ کے لیے اپنے دروازے اس وقت تک بند نہیں کرے گا جب تک وہ اس کی خودمختاری کو تسلیم کرے گی۔

انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت میں شامل کرنے کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے آئین پر مارچ میں ریفرنڈم کرایا جائے گا جس سے مئی یا جون میں انتخابات کے لیے راستہ ہموار ہوگا۔

اسی بارے میں