برطانیہ: امیگریشن اور بے روزگاری میں ربط

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption باہر کے لوگوں کے آنے سے مقامی افراد کے جابز کم پڑ جاتے ہیں

امیگریشن سے متعلق برطانیہ کے سرکاری مشیروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے باہر کے تارکین وطن اور برطانیہ کے بے روزگار لوگوں میں ایک ربط ہے۔

دی مائيگریشن ایڈوائزری کمیٹی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے باہر کے سو تارکین وطن کے مقابلے میں برطانیہ کے لوگوں کے لیے نوکری کے تیئس مواقع کم ہوجاتے ہیں۔

دوسری جانب نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکونومک اینڈ سوشل ریسرچ کے ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے لوگوں کے امیگریشن سے اثر بہت کم پڑتا ہے۔

برطانیہ میں مائیگریشن پر نظر رکھنے والے ادارے مائیگریشن واچ یو کے کے مطابق تقریبا چھ لاکھ افراد برطانیہ آئے ہیں اور اس دوران ساڑھے چار لاکھ نوجوان بے روزگار ہوئے ہیں۔

اور اب مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی نے کہا کہ یورپی یونین کے باہر کے ہر سو افراد پر برطانیہ کے تیئس افراد کا روز گار چلا جاتا ہے۔

اس کے مطابق انیس سو پچانوے سے دو ہزار دس کے درمیان یورپی یونین کے باہر کے تارکین وطن کے سبب ایک لاکھ ساٹھ ہزار برطانیہ میں پیدا ہوئے لوگوں کی نوکریاں متاثر ہوئی ہیں۔

اس جائزے میں تارکین وطن کو دو ہزار دو سے دو ہزار گيارہ کے درمیان دیے گئے نیشنل انشورنس نمبر کو شامل کیا گيا ہے اور پھر اس کا بے روزگاری کا معاوضہ لینے والے افراد سے موازنہ کیا گيا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے تھا ’ہم نے ماضی میں بے قابو امیگریشن پر کنٹرول کے لیے پہلے ہی سے بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ ہم نے غیر یورپی یونین سے برطانیہ میں کام کرنے والوں کی تعداد کو محدود کر دیا ہے اور ہر سال کام کے ویزی جاری ہونے کم ہوجائیں گے۔ ہم جلد ہی خاندانوں کے امیگریشن سے متعلق بھی اصلاحات کا اعلان کرنے والے ہیں۔‘

اسی بارے میں