ایرانی جوہری سائنسدان کی تدفین

احمدی روشن کا جنازہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احمدی روشن کی ہلاکت نےایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کی ہے

ایران میں کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے جوہری سائنسدان کی نماز جنازہ تہران میں پڑھی گئی جس میں ’ہزاروں افراد نے شرکت کی۔‘

ایرانی سائنسدان مصطفیٰ احمدی روشن کو نشانہ بنا کر تہران میں کار بم دھماکے میں کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ تہران کی علامہ طباطائی یونیورسٹی میں پیش آیا۔

ایران میں گزشتہ سالوں کے دوران متعدد سائنسدانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ایران اپنے جوہری سائنسدانوں کی ہلاکت کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیلی پر عائد کرتا ہے لیکن دونوں ممالک اس کی تردید کرتے ہیں۔

احمدی روشن کی ہلاکت نےایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کی ہے۔ امریکہ کو خطرہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے مقتول پروفیسر کی گاڑی میں بم نصب کیا تھا۔

خبر رساں ادارے فارس کے مطابق بتیس سالہ جوہری سائنسدان احمدی روشن نے آئل انڈسٹری یونیورسٹی سےگریجوئیشن کی تھی اور صوبہ اصفہان میں واقع یورینیم کی افزودگی کے مرکز میں کام کرتے تھے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ احمدی روشن کے قتل میں ملوث افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

امریکہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پرزور انداز میں امریکہ کے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ انہیں کچھ اندازہ ہے کہ اس واقعے میں کِس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔