ایران جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایرانی پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی نے کہا کہ انہوں نے ترکی کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے کی گئی پیشکش کو قبول کرلیا ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے متنازع جوہری پروگرام پر چھ طاقتور ممالک سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ بات ایران نے ایسے وقت کی ہے جب چند دن پہلے ہی اقوامِ متحدہ نے تصدیق کی تھی کہ ایران نے اپنے زیرِ زمین پلانٹ میں یورینیم کی بیس فیصد افزودگی شروع کردی ہے۔

ایرانی پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی نے ترکی کے دورے کے دوران کہا کہ انہوں نے ترکی کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے کی گئی پیشکش کو قبول کرلیا ہے۔

ایران اور چھ طاقتور ممالک کے درمیان ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات ایک سال سے تعطل کا شکار ہیں۔ ان مذاکرات کا آخری دور ترکی کے شہر استنبول میں ایک سال قبل ہوا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیس فیصد افزودگی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی جانب ایک بڑا قدم ہے تاہم ایران کا اصرار ہے کہ وہ یہ پرامن مقاصد کے حصول کے لیے کررہا ہے۔

مذاکرات کے آخری دور کے بعد ایران پر امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے مزید پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔

علی لاریجانی نے یہ پیشکش ایسے وقت قبول کی ہے جب ایک روز قبل ہی ایرانی جوہری سائنسدان کا تہران میں قتل ہوا ہے اور ایران نے اس کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سپیکر نے کہا کہ چوتھے ایرانی سائنسدان پر حملہ اس بات کا عکاس ہے کہ اسرائیل کس قدر کمزور ہے۔

انہوں نے کہا ’اگر اسرائیل سمجھتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی چار کارروائیوں سے ہماری پیش رفت روک سکتا ہے تو اس کی یہ سوچ انتہائی کمزور ہے۔ ہر ایک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ہمیں ایسے اقدامات سے روک نہیں سکتا۔‘

تاہم علی لاریجانی نے کہا کہ ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ’سنجیدہ‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا ’اگر یہ کھیل سمجھ کر نہیں بلکہ سنجیدگی سے کیے جائیں تو اس کے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔‘

دوسری جانب یورپی یونین کی پالیسی چیف کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ اکتوبر میں ایک خط کے ذریعے ایران کو مذاکرات میں دوبارہ آنے کی باضابطہ دعوت دی تھی اور وہ ایران کے باضابطہ جواب کا انتظار کررہی ہیں۔

استنبول میں بی بی سی کے جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ ایرانی سیاسی نظام میں علی لاریجانی کا بہت اثر و رسوخ ہے لہذٰا ان کا ترکی کا دورہ ان کے سرکاری عہدے سے زیادہ حیثیت کا حامل ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے دباؤ کے باوجود ترکی ایران سے اپنی ضروریات کا تیس فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔

اسی بارے میں