برطانوی خفیہ ادارے تشدد کے الزامات سے ’بری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بن یامین کو سن دو ہزار دو میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا

بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس پر حراست کے دوران تشدد کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔

جمعرات کو برطانوی پولیس کے تفتیشی ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ اور ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن یا ڈی پی پی اس حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کرنے والے ہیں۔

اگرچہ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ کچھ معاملات میں کوئی الزام عائد نہیں کیا جائے گا لیکن بیان میں دیگر قابل ذکر معلومات موجود ہونگی۔

بی بی سی کے داخلی امور کے نامہ نگار ڈینٹی ساں کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کا ڈی پی پی کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیے جانے والا بیان کافی اہمیت کا حامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بیان میں یہ امکانات موجود ہونگے کہ پولیس کی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں ہیں۔

ان تحقیقات کا آغاز سال دو ہزار نو میں شروع ہوا تھا اور ان میں ایم آئی فائیو پر الزامات عائد کیے گئے تھے کہ اس نےگوانتانامو بے کے قید خانے سے رہائی پانے والے برطانوی شہری بنیام محمد پر مبینہ طور پر تشدد کیا تھا۔

ایم آئی فائیو کے ایک افسر پر جو بی نامی گواہ کے طور پر جانے جاتے ہیں، الزام تھا کہ وہ اس بات سے آگاہ تھے اور اس معاملے میں شامل تھے جس میں پاکستان میں دوران حراست بنیام محمد کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔

ڈی پی پی کے اہلکار کائر سٹارمر کا کہنا ہے کہ بالاخر اس نتیجے پر پہنچے کہ مسٹر بی پر الزام عائد کرنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں تاہم دیگر قابلِ ذکر جرائم کرنے کے حوالے سے وسیع پیمانے پر تحقیقات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم نے خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے خلاف الزامات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اسی بارے میں