افغانستان: افیون کی قیمت میں بےحد اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 13 جنوری 2012 ,‭ 06:27 GMT 11:27 PST

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون کی قیمت میں سال دو ہزار گیارہ کے دوران ڈرامائی حد تک اضافہ ہوا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں پوست کے کاشتکاروں نے گذشتہ برس ایک ارب چالیس لاکھ ڈالر کمائے جو کہ ملکی پیداوار کا نو فیصد تھا۔

افغانستان میں افیون کی پیداوار کے حوالے سے سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں افیون کی قیمت ایک سو تینتیس فیصد بڑھی ہے۔

افیون کی قیمت میں اضافہ اس وقت شروع ہوا جب دو ہزار دس میں پوست کی فصل کو ایک قسم کی پھپھوندی لگ گئی۔

اقوامِ متحدہ میں انسدادِ منشیات اور جرائم کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افیون کی پیداوار سے حاصل ہونے والی رقم سے طالبان شدت پسندوں کی مدد کی جاتی ہے اور اس سے افغانستان میں بدعنوانی کو بھی بڑھاوا ملتا ہے۔

یوری فیڈوٹو کا کہنا تھا ’افیون افغانستان کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے‘۔ ادارے کے مطابق دنیا بھر میں پائی جانے والے افیون کا نوے فیصد افغانستان سے آتا ہے۔

دو ہزار دس میں پھپھوندی سے متاثر ہونے والے زرعی علاقے بحال ہوکر پھر سے پیداوار دینے لگے۔

گذشتہ برس کاشتکاروں کو زیادہ قیمتوں کی پیش کش کیے جانے کے بعد پوست کی پیداور میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

افغانستان کے تین صوبوں کو جنہیں پوست سے پاک قرار دیا گیا تھا وہاں سو ہیکٹرز سے کم رقبے پر پوست کاشت ہوتی ہے وہاں اب دوبارہ پوست کاشت ہونے لگی ہے۔ ان صوبوں میں مشرقی صوبہ کپیسا اور شمالی صوبے فاریاب اور بغلان شامل ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔