امریکہ: برما سے سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا کہ برما میں امریکہ کے سفیر کا انتخاب کرلیا گیا ہے

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن برما کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت ہوا جب چند گھنٹوں پہلے ہی برما کی حکومت نے کلیدی سیاسی رہنماؤں کو جیل سے رہا کردیا۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس عمل کو ’اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

برما کی حکومت سے مغربی ممالک کا یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا جس کے بعد اب برما کے خلاف پابندیوں میں نرمی کی جاسکتی ہے۔

براک اوباما نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ برما کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے اضافی اقدامات کریں۔

ان کے بقول ابھی برما کے عوام کی خواہشات کی تکمیل کے لیے وہاں کی حکومت کو بہت کچھ کرنا ہے تاہم امریکہ اس کے ساتھ تعلقات میں پرعزم ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا کہ برما میں امریکہ کے سفیر کا انتخاب کرلیا گیا ہے تاہم تعلقات کی بحالی ایک طویل عمل ہے جو مزید اصلاحات پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہا ’برما میں اب جو تاریخی اور حوصلہ افزاء اقدامات سامنے آرہے ہیں امریکی سفیر ان کی حمایت کی ہماری کوششوں کو مستحکم کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برما کی حکومت نے کلیدی سیاسی رہنماؤں کو جیل سے رہا کردیا

امریکی نے برما سے سفارتی تعلقات اس وقت منقطع کیے تھے جب سنہ انیس سو نوے میں حزبِ اختلاف کی رہنماء آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی فتح کو فوجی حکومت نے نظرانداز کردیا تھا۔

امریکی سفارتی تعلقات کے خاتمہ کے بعد مغربی ممالک نے نوے کی دہائی میں برما پر یکے بعد دیگرے کئی اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں جن میں ہتھیاروں کی تجارت اور سرمایہ کاری پر پابندی، اور فوجی حکومت کے کئی اراکین کے سفر پر پابندی اور ان کے اثاثوں کا انجماد شامل تھا۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے بھی سیاسی قیدیوں کی رہائی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام برما کی حکومت کا اصلاحات کی جانب پرعزم ہونے کا مظہر ہے۔

موجوہ سویلین حکومت کو فوج کی حمایت حاصل ہے اور یہ نومبر سنہ دو ہزار کے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئی ہے۔ یہ انتخابات برما میں بیس سال کے بعد ہوئے تھے اور بیس سال تک فوجی حکومت براجمان رہی تھی۔

موجودہ حکومت نے حزبِ اختلاف کی رہنماء آنگ سان سوچی کو رہا کرنے کے بعد ان کی جماعت کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں۔ توقع ہے کہ آنگ سان سوچی اپریل میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گی۔

اسی بارے میں