چین میں خود سوزی کا ایک اور واقعہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چین کے جنوب مغربی صوبے سیشوان میں اطلاعات کے مطابق ایک اور تبّتی شخص نے خود کو آگ لگا کر ہلاک کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ واقعہ تبّت میں چینی کنٹرول کے خلاف احتجاج میں جاری خود سوزی کے واقعات کی ایک کڑی ہے۔

مظاہرین کے مطابق اس واقعے کے پس منظر میں مقامی لوگوں اور پولیس اہلکاروں کے بیچ جھڑپیں ہوئیں۔ یہ واقع سیشوان صوبے کے قصبے عابا میں پیش آیا۔

اس واقعے میں تبّتی شخص کی ہلاکت یا ان کے جنس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سنیچر کو ہونے والے اس واقعے کے بعد گزشتہ ایک سال میں خود سوزی کے واقعات کی تعداد سولہ ہو گئی ہے جن میں سے بیشتر سیشوان صوبے میں پیش آئے ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نسلی طور پر تبّتی علاقوں میں سخت چینی کنٹرول کو ختم کیا جائے۔

دو احتجاجی تنظیموں کے مطابق فسادات میں ایک خاتون کو گولی بھی ماری گئی۔

لندن کی ایک تنظیم ’انٹرنیشنل کیمپین فار تبّت‘ کی کیٹ سائنڈرز کا کہنا تھا کہ ’کم از کم دو یا تین ذرائع کے مطابق ایک عام تبّتی شخص نے سنیچر کی صبح نگابا کے قصبے میں خود کو نظرِ آتش کر دیا۔ پولیس نے آگ بجھانے کے ساتھ ساتھ اس شخص کو بری طرح مارنا شروع کر دیا۔‘

مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کا تشدد جھڑپوں کی وجہ بنا۔

تبّتی رہنماء دلائی لاما نے خود سوزی کے واقعات کی مذمت کی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ لوگ چینی حکومت کی ’ثقافتی نسل کشی‘ سے تنگ آ چکے ہیں۔

چینی حکومت ان کے مؤقف کی تردید کرتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ تبّت کے روحانی پیشوا لوگوں کو خود سوزی پر اُکساتے ہیں۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے زندگی کا میعار بہتر ہوا ہے۔

چین کی حکومت تبّت کے حساس علاقوں میں صحافیوں کو رسائی دینے سے ہچکچاتی ہے جس کی وجہ سے زمینی حقائق کی تصدیق مشکل ہے۔

اسی بارے میں