عراق: پولیس کے دفتر پر دہشتگردوں کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عراق کے شہر رمادی میں شدت پسندوں نے پولیس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا ہے اور عمارت کے گرد بم دھماکے کرنے کے بعد دھماکہ خیز مواد کی جیکٹیں پہنے عمارت میں داخل ہو گئے ہیں۔

واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی جا سکی البتہ ایک رپورٹ کے مطابق پانچ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یرغمالوں کے ہونے کا بھی امکان ہے۔

رپورٹز کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

بغداد سے سو کلومیٹر مغرب میں واقعہ شہر رمادی کبھی القائدہ کی رہمنائی میں لڑنے والے گروہوں کا گڑھ تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر دو پولیس والوں نے بتایا کہ دوپہر ساڑھے گیارہ بجے مرکزی رمادی کی دولہ کبیر مسجد کے قریب گاڑیوں میں نصب دو بم دھماکے ہوئے، تیسرا بم دھماکہ شہر کے مرکز میں ہوا اور تھوڑی ہی دیر میں چوتھا دھماکہ پولیس کی عمارت کے پاس پیش آیا۔

دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو عمارت کے اندر گھس کر دھماکے سے اڑا دیا اور پھر مسلح شدت پسند عمارت کے اندر پہنچ گئے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا تھا دوپہر ہونے تک علاقے میں جھڑپیں جاری تھیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا اس عمارت میں بہت سے مشتبہ القاعدہ اراکین کو رکھا جاتا ہے۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ پولیس اور فوج نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا ہے اور اگرچہ فائرنگ کا تبادلہ رکا ہوا ہے تاہم سیکیورٹی اہلکار عمارت میں گھسنے اور یرغمالوں کو بچانے پر غور کر رہے ہیں۔

سنیچر کو ایک خودکش حملہ آور نے بصرہ کے جنوبی شہر کے مضافات میں شیعہ زائرین کو نشانہ بنایا جس میں تریپن افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تشدد کے واقعات امریکی فوجیوں کی سیاسی بحران کے دوران واپسی کے چند ہی ہفتوں میں پیش آ رہے ہیں۔ عراق میں شیعہ اور سنی مسلک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں