صدر اسد کا شام میں عام معافی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ریاستی ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے صدر بشارالاسد نے گزشتہ دس ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ان کی حکومت کے خلاف کیے جانے والے تمام جرائم کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔

خبر ساں ایجنسی ثناء نے بتایا کہ یہ معافی فوج سے منحرف ہونے والے فوجیوں، پر امن مظاہرین اور بغیر لائنسنس کے اسلحہ جمع کرنے والوں کے لیے ہوگی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت چودہ ہزار لوگ زیرِ حراست ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فسادات کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

بیروت میں عرب عالمی جمہوریت پر کانفرنس میں صدر اسد کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’فسادات ختم کریں۔ اپنے لوگوں کو مارنا بند کریں کیونکہ ظلم و جبر کا راستہ کہیں نہیں جاتا۔‘

صدر اسد نے مارچ میں شروع ہونے والے مظاہروں کے آغاز سے کئی مرتبہ معافی کا اعلان کیا ہے تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں لوگ ابھی تک زیرِ حراست ہیں۔

ہمسایہ ملک ترکی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا تھا کہ تازہ ترین معافی فسادات کے اختتام کے لائحہ عمل پر غور نہیں کرتی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مارچ سے جاری فسادات میں اب تک پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عرب لیگ کے مبصرین کی چھبیس دسمبر کو آمد کے بعد تقریباً چار سو لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام بھر میں ہزاروں لوگ ابھی بھی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے صدر اسد نے تقریر میں عالمی قوتوں پر شام کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام لگا ہے اور انہوں نے ’دہشتگردوں‘ کے خاتمے کا اعادہ کیا۔

سنیچر کے روز قطر کے حکمران شیخ حماد بن خلیفہ الثانی نے کہا کہ عرب ممالک کو شام میں فسادات روکنے کے لیے اپنی افواج بھیجنی چاہیں۔ یہ کسی عرب ملک کے سربراہ کا شام میں فوجی مداخلت کا پہلا مطالبہ ہے۔

اسی بارے میں