’مشعل کی حماس کی قیادت میں عدم دلچسپی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حماس نے خالد مشعل سے فیصلے پر نظرِ ثانی کو کہا ہے

فلسطینی تنظیم حماس نے تصدیق کر دی ہے کہ اس کے مرکزی رہنما خالد مشعل اب تنظیم کی قیادت میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اگرچہ خالد مشعل کی قیادت کے لیے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اسی بیان میں تنظیم نے شام میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے والا رہنما سے اپنے فیصلے پر نظرِثانی کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کہ تنظیم کا قائد کون ہو، مجموعی طور پر تنظیم کا ہونا چاہیے نہ کہ صرف ایک فرد کا۔

یہ واضح نہیں کہ خالد مشعل کے اس اعلان کے بعد حماس میں قیادت کے انتخاب کا عمل وقوع پذیر بھی ہوگا یا نہیں اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ اگر ایسا ہوا تو کون خالد مشعل کی جگہ لے گا۔

عام خیال یہی ہے کہ اگر انتخاب ہوا تو غزہ میں حماس کی حکومت کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ہی اس عہدے کے مضبوط دعویدار ہوں گے۔

خیال رہے کہ حماس کا فلسطینی سیاست میں اہم کردار ہے اور سنہ دو ہزار چھ کے پارلیمانی انتخابات میں حماس نے غزہ کی پٹی میں کامیابی حاصل کر کے علاقے میں اقتدار سنبھال لیا تھا اور اگلے ہی برس یعنی سنہ دو ہزار سات میں الفتح تنظیم کو غزہ سے نکال دیا گیا تھا۔

اس وقت غربِ اردن کے کچھ علاقوں پر الفتح کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول ہے جبکہ حماس غزہ کی پٹی پر حکومت کرتی ہے۔

گزشتہ برس سے حماس اور الفتح کے درمیان دوبارہ مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں۔ مئی دو ہزار گیارہ میں الفتح اور حماس نے ٹیکنوکریٹس کی ایک عبوری حکومت بنانے پر اتفاق کیا تھا جس کا مقصد طویل عرصے سے تاخیر شدہ انتخابات کا انعقاد تھا مگر جون میں اس اعلان کو منسوخ کر دیا گیا جس کی وجہ وزیرِاعظم کے عہدے پر اختلاف بتایا جاتا ہے۔

حماس کو اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین، تینوں نے دہشتگرد گروہ قرار دیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں