مصر:’ہلاکتوں کے وقت اختیارات فوج کے پاس تھے`

فائل فوٹو، حسنی مبارک تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق صدر پر اگر مظاہرین کی ہلاکت کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اس صورت میں ان کو سزائے موت ہو سکتی ہے

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کے وقت سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے پاس تھی۔

حسنی مبارک کے وکیل فرید ال دیب کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اٹھائیس جنوری کو سابق صدر نے کرفیو نافذ کر دیا تھا اور ذمہ داریاں فوج کے سربراہ کے سپرد کر دی تھیں۔

بدھ کو حسنی مبارک پر مظاہرین کو ہلاک کرنے کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر حسنی مبارک کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پولیس یا وزارتِ داخلہ کو مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔

حسنی مبارک پر بدعنوانی کا الزام ہے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کو مارنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

سابق صدر حسنی مبارک پر اگر مظاہرین کی ہلاکت کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اس صورت میں ان کو سزائے موت ہو سکتی ہے۔

حسنی مبارک کے وکیلِ صفائی نے منگل سے دلائل دینے شروع کیے ہیں۔

فرید ال دیب کا کہنا تھا کہ’اٹھائیس جنوری کو مقامی وقت کے مطابق چار بجے شام کو اس وقت کے صدر حسنی مبارک نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ملک بھر میں کرفیو نافذ کرنے کا حکم دیا اور سکیورٹی کی ذمہ داریاں فوج کے حوالے کر دی تھیں۔‘

’اس بات کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی کہ پولیس کو مظاہرین پر گولیاں چلانے کا حکم دیا گیا ہو۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سابق صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے حوالے کیے جانے کے بعد سے پولیس کے پاس کوئی ایسی اتھارٹی اور اختیارات نہیں تھے جس کے تحت وہ کوئی حکم دیتے۔‘

تاہم انھوں نے واضح کیا کہا کہ مظاہرین کو ہلاک کرنے کا الزام فوج پر عائد نہیں کر رہے ہیں۔

گزشتہ سماعت کے دوران استغاثہ نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ سابق صدر حسنی مبارک کو مظاہرین کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی جائے۔

استغاثہ کی جانب سے سابق صدر حسنی مبارک کو پھانسی دینے کا مطالبے نے مبصرین کوحیران کر دیا کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ استغاثہ نے اتنے واضح انداز میں صدر حسنی مبارک کے لیے پھانسی کا مطالبہ کیا ہے۔

گزشتہ سال فرروی میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد حسنی مبارک نے زیادہ وقت ہسپتال میں گزارا ہے جہاں سے انہیں عدالت میں لایا جاتا ہے ۔سابق صدر کو سٹریچر کی مدد سے قاہرہ میں عدالت میں پیش کیا گیا تاہم بعد اطلاعات موصول ہوئیں کہ انھیں ویل چیئر پر لایا گیا۔

اسی بارے میں