پاکستان میں ایجنٹ، ناروے انٹیلیجنس سربراہ مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جین کرسچیانسن نے ایجنٹس کی پاکستان میں موجودگی کی وجہ بیان نہیں کی تھی

ناروے کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کی سربراہ نے یہ خفیہ معلومات افشاء کرنے کے بعد استعفٰی دے دیا ہے کہ ناروے کے خفیہ ایجنٹ پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ بات ناروے کی وزارتِ قانون کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔

ادھر ناروے کے خفیہ ایجنٹوں کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں وزرات خارجہ کے ترجمان ترجمان عبدالباسط نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ بات ابھی ہمارے علم میں آئی ہے اور ناروے کی حکومت سے رابطے میں ہیں اور ان سے مزید تفصیلات لے رہے ہیں‘۔

یانے کرسٹیانسن ناروے کی انٹیلیجنس ادارے پی ایس ٹی کی سربراہ تھیں جو ملک کی داخلی سکیورٹی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔

انہوں نے ایجنٹوں کی پاکستان میں موجودگی کا انکشاف ناروے کی پارلیمان کے سامنے بیان دیتے ہوئے کیا تھا لیکن انہوں نے ان ایجنٹوں کی وہاں موجودگی کی وجہ بیان نہیں کی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں ناروے کے فوجی اس اتحادی فوج کا حصہ ہیں جو طالبان سے برسرِ پیکار ہیں۔

رائٹرز کے مطابق وزارتِ قانون کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پی ایس ٹی کی سربراہ جین کرسچیانسن نے مطلع کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہی ہیں۔ اس اقدام کی وجہ ممکنہ طور پر خفیہ معلومات عام کرنے سے اعتماد کا ختم ہو جانا ہے‘۔

پارلیمان کے سامنے دیے گئے بیان میں جین کرسچیانسن نے ایجنٹس کی موجودگی کا انکشاف اس سوال کے جواب میں کیا تھا کہ کیا ناورے کے پاکستانی خفیہ اداروں سے روابط ہونے چاہیئیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ناروے کی افواج کی خفیہ ایجنسی ای سروس پاکستان میں کام کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ای سروس کے نمائندے ان ممالک میں موجود ہیں اور ہم ان ممالک سے ای سروس کے ذریعے رابطے کرتے ہیں‘۔

نارویجن اخبار وی جی نیوز نے خفیہ ادارے کی سربراہ کے استعفے کی وجہ یہی بیان قرار دیا تھا اور بعد ازاں نارویجن حکام نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔