امریکہ: جعل سازی بل کی حمایت میں کمی

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آن لائن احتجاج میں بدھ کی صبح تک تقریباً سات ہزار ویب سائٹیں شامل تھیں

امریکہ میں جملہ حقوق کے تحفظ کے مجوزہ قوانین کے خلاف ہزاروں ویب سائٹس کے احتجاج کے بعد آٹھ امریکی سینیٹرز نے جعل سازی کی روک تھام کے مجوزہ قوانین کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔

اس بل کی حمایت ختم کرنے والوں میں امریکی سیاسی جماعت ریپبلیکنز کے دو اہم قانون دان، فلوریڈا سے مارکو روبیو اور میسوری سے رائے بلنٹ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے بدھ کو آن لائن انسائیکلوپیڈیا ’وکی پیڈیا‘ اور بلاگ سروس ’ورڈ پریس‘ سمیت ہزاروں ویب سائٹوں نے جملہ حقوق کے تحفظ کے مجوزہ قوانین کے خلاف چوبیس گھنٹے کے لیے اپنی ویب سائٹس بند کر دی تھیں۔

یہ احتجاج ’سوپا‘ یعنی سٹاپ آن لائن پائریسی ایکٹ اور ’پیپا‘ یعنی پروٹیکٹ انٹیلیکچوئل پراپرٹی ایکٹ کے خلاف کیا جا رہا ہے جو اس وقت کانگریس میں زیرِ بحث ہیں۔ خبروں کی امریکی ویب سائٹ پولیٹیکو کے مطابق احتجاج میں بدھ کی صبح تک تقریباً سات ہزار ویب سائٹیں شامل تھیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جانی ڈیمنڈ کے مطابق مارکو روبیو اور رائے بلنٹ کی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے اس زیرِ بحث بل کے منظور ہونے میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکی سیاسی جماعت ریپبلیکن پارٹی کے مارکو روبیو کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ اس سال کے انتخابات میں پارٹی کے نائب صدر کے لیے کھڑے ہوں گے۔

مارکو روبیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے اور دیگر سینیٹرز نے اس بل کی منظوری سے انٹرنیٹ کی رسائی میں پیدا ہونی والے مشکلات کے بارے میں غور و فکر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔

انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے اپنی ویب سائٹ احتجاجاً بند تو نہیں کی لیکن صفحۂ اول پر احتجاج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ضرور کیا ہے۔

گوگل نے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ مجوزہ قوانین سے جعل سازی ختم نہیں ہوگی اور اس کا حل ’انٹرنیٹ کی سنسر شپ نہیں ہے بلکہ ان غیر ملکی ویب سائٹوں کے فنڈز کو روکنا ہے جو جعل سازی میں ملوث ہیں‘۔

دوسری جانب امریکی سیاسی جماعت ڈیموکریٹس کے سابق سینیٹر اور اس بل کے اہم حامی کرس ڈاڈ نے ویب سائٹوں کی احتجاج کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ اور ’اختیارات کا غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ ایک غیر ذمہ دارانہ اور نقصان دہ ردِ عمل ہے۔ خاص طور پر ان افراد کے لیے جو معلومات کے لیے ان ویب سائٹوں کو استعمال کرتے ہیں۔‘

امریکی چیمبر آف کامرس نے بھی اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل کی مخالفت ضرورت سے زیادہ ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں