شام میں عرب لیگ مشن کے مزید قیام پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ j
Image caption شام میں عرب لیگ کے ایک سو پینسٹھ مبصرین پر مشتمل وفد کے دورے کی معیاد جمعرات کو ختم ہو چکی ہے

عرب لیگ شام میں موجود اپنے مبصرین کے دورے کی معیاد بڑھانے کے بارے میں سوچ بچار کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ عرب لیگ کے مبصرین کے سربراہ کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ پر سینچر کو قاہرہ میں تبادلۂ خیال کیا جائے گا جس کے بعد عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اتوار کو کوئی فیصلہ کریں گے۔

شام میں عرب لیگ کے ایک سو پینسٹھ مبصرین پر مشتمل وفد کے دورے کی معیاد جمعرات کو ختم ہو چکی ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ عرب لیگ ان کے دورے کی معیاد اگلے ماہ تک بڑھانے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

شام میں پر تشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جمعہ کو فائرنگ کر کے مزید سات افراد کو ہلاک کر دیا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ عرب لیگ کے مبصرین کے شام میں قیام کے پہلے دس دنوں میں پر تشدد کارروائیوں کے دوران چار سو سے زیادہ افراد ہلاک کیے گئے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف گزشتہ سال مارچ میں شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے دو ہزار سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ شام میں جاری بحران کے پیشِ نظر دمشق میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے پر غور کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں موجود حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں شامی حکام کے علاوہ برطانیہ اور چین کی حکومتوں سے بھی بات چیت کر رہے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی حتمی فیلصہ نہیں ہوا ہے۔

مظاہرے اور ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں حکومت کے خلاف گزشتہ برس مارچ سے مظاہرے جاری ہیں

شام میں حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد کی رہائی کے حق میں بڑے مظاہرے کیے گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ شام میں حکومت کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران چودہ ہزار افراد کو پابندِ سلاسل کیا گیا ہے تاہم انسانی حقوق کے کارکن اس تعداد سے متفق نہیں اور ان کے بقول یہ تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

حکومت کے خلاف بڑے مظاہرے ایسے وقت کیے گئے جب ایک روز قبل ہی عرب لیگ کے تحقیقی مشن نے شام میں اپنا ایک ماہ طویل مشن مکمل کیا ہے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے سات افراد ہلاک ہوگئے۔

ان کے مطابق، ان میں سے چھ افراد کو شمال مغربی صوبۂ ادلیب کے دو گاؤں میں ہلاک کیا گیا جبکہ ایک سپاہی کی لاش جنوبی شہر درعا سے برآمد ہوئی۔

احتجاج کا انعقاد اور دستاویز تیار کرنے والی مقامی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا سپاہی حزبِ اختلاف کی حمایت کر رہا تھا۔

اس سے قبل سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ وسطی شہر ہما میں ایک بریگیڈیئر اور دو فوجیوں کو ’دہشت گردوں‘ کے ایک گروپ نے ہلاک کردیا۔

مقامی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بریگیڈیئر ملٹری انٹیلی جنس کے لیے کام کرتے تھے اور انہیں اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہوں نے شہریوں پر گولی چلانے کے احکامات دیے اور فوجیوں نے ان کے احکامات ماننے سے انکار کردیا۔

برطانیہ میں مقیم شام کے انسانی حقوق کے کارکن رامی عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ تقریباً چار ہزار افراد کو گزشتہ ہفتے رہا کیا گیا جن میں سے کئی ضمانت پر ہیں یا ان کے مقدمات عدالتوں میں زیرِالتواء ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیس ہزار کے لگ بھگ قید خانوں میں ہیں اور ان میں وہ فوجی شامل نہیں ہیں جن کو بغاوت کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

جمعہ کو ہونے والے مظاہروں میں شرکاء نے عرب لیگ کے نگراں مشن کے خاتمہ کا بھی مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ وہ بھی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کو ختم کرانے میں ناکام رہا ہے۔

دمشق کے مضافات میں ہونے والے ایک مظاہرے میں ایک بینر پر یہ عبارت تحریر تھی ’عرب لیگ تمھارے ہاتھ بھی شامیوں کے خون سے رنگ گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں