یمن: استثنٰی کی منظوری کے خلاف مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یمن میں پارلیمان کی جانب سے صدر علی عبداللہ صالح کو استثنٰی دینے کی منظوری کے خلاف ہزاروں یمنی دارلحکومت صنعا میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدر کے خلاف، یمن میں سال بھر تک جاری رہنے والے کریک ڈاؤن سمیت دیگر جرائم کے مقدمات چلائیں جائیں اور انھیں استثنٰی دیا جانے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

واضح رہے کہ یمن کی پارلیمنٹ نے رواں ہفتے سنیچر کو باضابطہ طور پر صدر علی عبداللہ صالح کو استثنٰی دینے کی منظوری دے دی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین دارلحکومت صنعا میں صدر کو پھانسی دینے کے نعرے بلند کر رہے تھے۔

صدر صالح نے حال ہی میں ملک میں شدید حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں آئندہ ماہ اقتدار چھوڑنے کا معاہدہ کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت صدر صالح کے کچھ ساتھیوں کو جزوی استثنٰی بھی دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ان کے تمام ساتھیوں کو مکمل استثنٰی دینے کی بھی بات کی گئی تھی۔

اقتدار کی منتقلی کے پیچیدہ مراحل میں استثنٰی کا معاملہ ایک نازک مسئلہ رہا ہے اور بہت سے مظاہرین کا ابھی بھی مطالبہ ہے کہ صدر پر مقدمات چلائے جائیں۔

صدر صالح نے نومبر میں استثنٰی کی شرط پر اقتدار نائب صدر کے حوالے کر دیا تھا۔

علی عبداللہ الصالح سنہ انیس سو اٹھہتر سے یمن کے حکمران ہیں جہاں اس سال سیاسی بحران میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عبداللہ الصالح اور ان کے خاندان کے زیرِ انتظام سکیورٹی فورسز اور ان کے مسلح حامیوں پر حکومت مخالف مظاہرین کو قتل کرنے کے الزامات ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نوی پلے کا کہنا ہے کہ کسی ایسے شخص کو استثنٰی دینا جس نے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کر رکھی ہوں، بین الاقوامی قوانین کے منافی ہوگا۔

دوسری جانب اس اقدام کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ صدر کو استثنٰی دینا یمن کو ایک جمہوری مستقبل کی جانب لے جانے کے لیے ضروری ہے۔

صدر نے اقتدار کی منتقلی کا معاہدہ کئی پیچیدہ مراحل سے گزرنے کے بعد ہی قبول کیا۔ بی بی سی کے سباسچین اشر کا کہنا ہے کہ صدر کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بھی کچھ حلقوں میں تشویش تھی کہ صدر اس معاہدے کا پاس رکھیں گے یا نہیں۔

ایک اہم نکتۂ بحث یہ تھا کہ ان کے قریبی ساتھیوں، جن میں ان کے بیٹے بھی شامل ہیں، کو استثنٰی دیا جائے گا یا نہیں۔ پارلیمنٹ کے منظور کردہ اس قانون میں اُن کو کچھ قانونی تحفظات دیے گئے ہیں مگر مکمل استثنٰی نہیں دیا گیا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ اس اقدام سے صدر صالح کے مخالف مظاہرین جن کا متواتر صدر پر مقدمات چلانے کا مطالبہ رہا ہے، کافی ناخوش ہوں۔

اسی بارے میں