عرب لیگ کا شام میں اصلاحات کا ’روڈ میپ‘

عرب لیگ مشن تصویر کے کاپی رائٹ a
Image caption عرب لیگ مشن پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے شام میں ہلاکتیں روکوانے کے لیے کچھ نہیں کیا

عرب لیگ نے شام کے لیے اصلاحات کا ایک ڈھانچہ تیار کیا ہے جس پر وہ چاہتی ہے کہ دمشق تشدد کے فوری خاتمے کے لیے عمل کرے۔

قاہرہ میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد عرب لیگ نے شامی حکام سے مطالبہ کیا کہ ملک میں دو ماہ کے اندر قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دی جائے جس میں حزبِ مخالف کو بھی شامل کیا جائے۔

عرب لیگ نے حکومت اور حزبِ مخالف دونوں سے کہا کہ ملک میں خونریزی بند کی جائے۔

اس سے قبل سعودی عرب نے شام میں عرب لیگ کے مانیٹرنگ مشن سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا اور دمشق پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف تشدد روکنے میں ناکام رہا ہے۔

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے بین الاقوامی سے مطالبہ کیا وہ شام پر مزید دباؤ بڑھائے۔

وہ قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

قطر کے فرمانروا شیخ حماد بن جاسم نے عرب لیگ کا بیان پڑھ کر سنایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بشار السد دو ہفتوں کے دوران اقتدار نائب صدر کو سونپ دیں تاکہ وہ حزبِ مخالف سے مناسب طریقے سے مذاکرات کر سکیں اور دو ماہ کے اندر قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل دی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption سعودی عرب نے شام کے مانیٹرنگ مشن سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا

شیخ حماد نے کہا کہ عرب لیگ تبدیلیوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت بھی چاہے گی۔ ’لیکن ہم فوجی حل کی بات نہیں کر رہے۔‘

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ صدر بشار السد عرب لیگ کی بات ماننے سے انکار کر دیں اور کہیں کہ ان کا اپنا اصلاحات کا ایجنڈا ہے۔

اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جا رہا تھا کہ مبصرین شام میں ایک مہینہ مزید قیام کریں۔

عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ کے اجلاس میں شام میں تشدد روکنے کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا گیا۔

عرب لیگ نے شام میں اپنے مبصرین کا مشن بھیجا تھا جو تنقید کی زد میں ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے شام کی حکومت کے دباؤ میں آ کر تشدد کو رکوانے میں کوئی خاص اقدام نہیں کیا ہے۔

عرب لیگ کے مشن کے شام کے دورے کی معیاد جمعرات کو ختم ہو گئی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ جب سے مانیٹرنگ مشن شروع ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک تقریباً ایک ہزار افراد ملک میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

عرب لیگ کے اجلاس سے قبل شامی قومی کونسل کے سربراہ برہان غالیون نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ وہ عرب لیگ کے مبصرین کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’شامی قومی کونسل کے خیال میں جن حالات میں اور جتنے محدود وسائل کے ساتھ عرب لیگ کے مبصرین نے کام کیا اُن کی وجہ سے ایک جامع رپورٹ سامنے آنا ممکن نہیں جو شامی عوام، وہاں کے حالات اور بین الاقوامی رائے کی درست عکاسی کرے۔ ہم نے بتا دیا ہے کہ اگر اجلاس میں کوئی رپورٹ پیش کی گئی جو ہمارے خیال میں جامع نہیں ہو سکتی، ہم اسے مسترد کر دیں گے۔‘

اس سے قبل شام میں حزبِ اختلاف کی قومی کونسل نے باضابطہ طور پر عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے بحران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس بھیجے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں کونسل کی ایک ترجمان بسماء الکدامنی کا خیال تھا کہ اگر عرب لیگ یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھائے گی تو شام کے خلاف پابندیوں کی مخالفت کرنے والے ملکوں چین اور روس کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا پڑے گا۔

شہزادہ سعود الفیصل نے ریاض کے مشن سے علیحدگی اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ شام کی حکومت نے اس عرب امن منصوبے پر عمل نہیں کیا جس کے بارے میں اس نے مشن کے شام میں آنے سے پہلے رضامندی ظاہر کی تھی۔

’ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری پوری کرے، اور اس میں اسلامی ریاستوں میں ہمارے بھائی اور روس، چین، یورپ اور امریکہ میں ہمارے دوست شامل ہیں۔‘

دریں اثناء شام میں باغیوں کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں نے دمشق کے نواحی علاقے دُوما میں شدید جھڑپوں کے بعد سرکاری فوج کو علاقے سے باہر دھکیل دیا ہے۔

اسی بارے میں