عرب لیگ مبصرین، شام میں قیام کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں حزبِ اختلاف کی قومی کونسل نے باضابطہ طور پر عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے بحران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس بھیجے

مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کے وزارءِ خارجہ نے قاہرہ میں اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ ان کے مبصرین شام میں ایک مہینہ مزید قیام کریں گے۔

عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ کے وزارءِ خارجہ کا اتوار کو اجلاس ہوا جس میں انہوں نے شام میں تشدد روکنے کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا۔

عرب لیگ نے شام میں اپنے مبصرین کا مشن بھیجا تھا جو تنقید کی زد میں ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے شام کی حکومت کے دباؤ میں آ کر تشدد کو رکوانے میں کوئی خاص اقدام نہیں کیا ہے۔

عرب لیگ کے مشن کے شام کے دورے کی معیاد جو جمعرات کو ختم ہو گئی تھی۔

عرب لیگ کے اجلاس سے قبل شامی قومی کونسل کے سربراہ برہان غالیون نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ وہ عرب لیگ کے مبصرین کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’شامی قومی کونسل کے خیال میں جن حالات میں اور جتنے محدود وسائل کے ساتھ عرب لیگ کے مبصرین نے کام کیا اُن کی وجہ سے ایک جامع رپورٹ سامنے آنا ممکن نہیں جو شامی عوام، وہاں کے حالات اور بین الاقوامی رائے کی درست عکاسی کرے۔ ہم نے بتا دیا ہے کہ اگر اجلاس میں کوئی رپورٹ پیش کی گئی جو ہمارے خیال میں جامع نہیں ہو سکتی، ہم اسے مسترد کر دیں گے۔‘

اس سے قبل شام میں حزبِ اختلاف کی قومی کونسل نے باضابطہ طور پر عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے بحران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس بھیجے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں کونسل کی ایک ترجمان بسماء الکدامنی کا خیال تھا کہ اگر عرب لیگ یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھائے گی تو شام کے خلاف پابندیوں کی مخالفت کرنے والے ملکوں چین اور روس کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا پڑے گا۔

باغیوں کا کارروائی

شام کے باغیوں کا کہنا ہے کہ فوج سے منحرف ہو کے ہتھیار اٹھانے والے جنگجوؤں نے دمشق کے نواحی علاقے دُوما میں شدید جھڑپوں کے بعد سرکاری فوج کو علاقے سے باہر دھکیل دیا ہے۔

آزاد زرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی البتہ شام میں انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلح باغیوں نے پہلی مرتبہ حملہ کر کے بھاگنے والی حکمتِ عملی ترک کر کے سرکاری فوج کی جانب پیش قدمی کی۔

دُوما پر قبضہ کرنے کے بعد، باغیوں نے علاقے سے انخلاء کر لیا کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ فوج بھرپور جوابی کارروائی کر سکتی ہے۔

اس سے قبل حکومت مخالف کارکنوں نے بتایا کہ ایک جنازے کے شرکاء پر شامی فوج کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے۔

قیدیوں کی وین پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ادلیب کی ہائی وے پر قیدیوں کی وین پر حملہ کیا گیا

اس کے علاوہ اِدلیب میں قیدیوں سے بھری ایک بس سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں کم سے کم چودہ قیدیوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی۔

خبررساں ادارے ثناء کے مطابق ملک کے شمال مغرب میں ادلیب اور اریحہ کے درمیان ہائی وے پر قیدیوں کو لے جانے والی وین پر نامعلوم مسلح گروہ نے حملہ کیا جس میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے۔

حزبِ اختلاف کے گروپوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے۔

اس حملے میں چھبیس قیدی اور چھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ اسی دوران جب ایک ایمبولینس وہاں پہنچی تو اس پر بھی حملہ کردیا گیا۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ اِدلیب میں واقع قومی ہسپتال میں تیس کے قریب نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ہیں جبکہ چھ مزید لاشیں مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔

مقامی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو دوما، دیرالزور اور حمص میں ہلاک کیا گیا۔

اسی بارے میں