نمایاں افراد کے افغانستان کے دوروں پر لاکھوں خرچ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاپ سٹار شیرل کول ہیلمند میں برطانوی کیمپ کا دورہ کیا تھا

برطانوی حکومت نے افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لیےگزشتہ برس فلمی یا نمایاں شخصیات کو افغانستان بھیجنے پر چار لاکھ پونڈ سے بھی زیادہ کی رقم خرچ کی ہے۔

برطانوی وزرات دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسے کئی دوروں کا اہتمام کیا تھا۔

ایسے افراد جنہوں نے افغانستان میں محاذ جنگ کا دورہ کیا اس میں پاپ سٹار شیرل کول بھی شامل ہیں۔

وزارت دفاع کے سکریٹری فلپ ہیمنڈ نے ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ سفر اور موبالائيزیشن جیسے کاموں پر بھی تقریبا ساڑھے چار لاکھ پونڈ یعنی پانچ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’آرمڈ فورسز کے ارکان کی تفریح کا عنصر ان کی تعیناتی کے فلاحی پیکج کا حصہ رہا ہے جو ماضی میں بھی تھا اور اب بھی ہے۔ یہ فوجیوں کے حوصلے بلند رکھنے اور لڑائی میں ان کے عمل کو موثر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔‘

سیکریٹری دفاع فلپ ہیمنڈ کا کہنا تھا ’افغانستان سمیت ببیرونی ممالک میں تعینات آرمڈ فورسز کے ارکان کی تفریح کے لیے وزارت دفاع کا کمبائنڈ سروسز انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ایک معاہدہ ہے۔‘

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا افغانستان کے ان دوروں کے لیے ان نمایاں شخصیات کو بھی رقم مہیا کی گئي یا نہیں۔ لیکن مسٹر فلپ کے مطابق جو افراد گئے ان کی آمد و رفت اور رہائش کم سے کم قیت پر ادا کی گئي۔

گزشتہ برس ستمبر میں افغانستان میں برطانوی کے دس برس مکمل ہونے کے موقع پر ٹی وی پروگرام ’ ایکس فیکٹر‘ کی جج شیرل کول ہیلمند میں برطانوی کیمپ بیشن کا دورہ کیا تھا۔

انہوں نے وہاں فوجیوں اور فضائیہ کے ان اہلکاروں سے ملاقات کی تھی جو میدان جنگ میں تعینات ہیں یا پھر لڑائی میں زخمی ہوئے تھے۔

مشہور برطانوی فٹبال کھلاڑی ڈیوڈ بیکھم اور نغمہ نگار کیتھرین جینیکن بھی افغانستان گئے تھے۔

اسی بارے میں