ریو ڈی جنیرو: عمارت گرنے سے ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برازیل کے دارالحکومت ریو ڈی جنیرو میں ایک بیس منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی اور متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

ٹیلی وژن پر جائے حادثہ کا جو منظر دکھایا گیا اس میں عمارت کا ملبہ خاصے بڑے علاقے میں پھیلا ہوا تھا جس میں بسیں اور کاریں بھی دبی ہوئی تھیں۔

درجنوں امدادی کارکن امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں اب تک گیارہ افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ عمارت کس وجہ سے منہدم ہوئی تاہم عینی شاہدین کے مطابق عمارت کے زمین بوس ہونے سے پہلے انھوں نے ایک دھماکے کی آواز سنی تھی۔ ان کے مطابق اب بھی علاقے میں گیس کی شدید بو پھیلی ہوئی ہے۔

دوسری جانب شہر کے میئر ایدوآرڈو پائے کا کہنا ہے کہ عمارت کے ڈھانچے کے مسائل حادثے کی وجہ ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے خبر رساں ادارے ای ایف پی کو بتایا ’عمارتی ملبے میں اس وقت بھی لوگ دبے ہوئے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ ان کی تعداد کیا ہے۔ اب تک چار افراد کو ہسپتال لیجایا جا چکا ہے‘۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پولیس نے حفاظتی اقدام کے طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر بجلی بند کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد جس نے اپنا نام گلبرٹ بتایا، کا کہنا تھا ’یہ ایک زلزلے کی طرح تھا۔ پہلے عمارت کے کچھ حصے گرنے لگے اور پھر لوگ بھاگنے لگے۔ اس کے بعد پوری عمارت یکدم گر گئی‘۔

اس واقع سے تین ماہ پہلے ریو میں ایک ریسٹورنٹ میں مبینہ طور پر گیس رسنے سے ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنہ دو ہزار چودہ میں فٹبال ورلڈ کپ اور اس کے دو سال بعد اولمپک مقابلوں کی میزبانی کے لیے چنے گئے شہر ریو ڈی جنیرو میں عوامی سہولیات کے نظام کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں