وزیراعظم گیلارڈ سے ’بدسلوکی‘ کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم گیلارڈ کو پولیس کو ریسکیو کرنا پڑا

آسٹریلیا میں مقامی سیاسی رہنماؤں نے ایک احتجاجی مظاہرے میں وزیراعظم جولیا گیلارڈ کے ساتھ ’بدسلوکی‘ کی مذمت کی ہے۔

آسٹریلیوی دارالحکومت کینبرا کے ایک ریستوران سے وزیراعظم گیلارڈ اور حزب اختلاف کے رہنماء ٹونی ایبٹ کو اس وقت پولیس کو ریسکیو کرنا پڑا جب مظاہرین کے ایک ہجوم نے ریستوران کو گھیرے میں لے لیا۔

دو سو کے قریب مظاہرین نے ریستوران کو گھیرے میں لینے کے بعد اس کے شیشے پیٹتے ہوئے نسل پرست کے نعرے لگائے۔ اس کے بعد پولیس کو طلب کرنا پڑا جس نے وزیراعظم کو دبوچ کر ریستوران سے باہر نکلا اور گاڑی تک پہنچایا۔ اس دوران ان کو ٹھوکر لگنے سے پاؤں کا ایک جوتا بھی اتر گیا۔

ابوریجنل ٹینٹ ایمبیسی کے حامی مظاہرین بظاہر حزب اختلاف کے رہنماء ٹونی ایبٹ کے ایک بیان پر مشتعل تھے۔

ٹونی ایبٹ نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ابوریجنل ٹینٹ ایمبیسی کے بارے میں ایک ایسے وقت سوال اٹھایا تھا جب آسٹریلیا کی قدیم مقامی آبادی یعنی ابوریجنل قبائل کو ملک کے آئین میں تسلیم کیے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ابوریجنل ٹینٹ ایمبیسی سنہ انیس سو بہتّر میں اس وقت کے وزیراعظم کی جانب سے قدیم قبائل کو ملکیتی حقوق نہ دیے جانے پر احتجاجاً قائم کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹونی ایبٹ کے مطابق انہوں نے ابوریجنل ٹینٹ ایمبیسی کو ختم کرنے کا نہیں کہا ہے

مظاہرین کے مطابق ٹونی ایبٹ کے بیان سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ یہ وہ وقت ہے کہ ابوریجنل ٹینٹ ایمبیسی کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔

مقامی سیاسی رہنماؤں نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیوی وزیراعظم کے ساتھ ’بدسلوکی‘ کی گئی ہے۔

ابوریجنیل اینڈ ٹورس سٹرئٹ آئی لینڈر سوشل جسٹس کمشنر مائیک گوڈا نے اے بی سی ریڈیو کو بتایا ’جب کہ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ آسٹریلیا بھر میں قدیم قبائل کے کچھ حلقوں میں واقعی غم و غصہ، مایوسی، دکھ پایا جاتا ہے، اور ہمیں اس کو اشتعال اور غیر اخلاقی حرکتوں میں نہیں بدلنا چاہیے۔

ایک اور مقامی رہنماء ویرن منڈائن کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے۔

جمعہ کو حزب اختلاف کے رہنماء ٹونی ایبٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا ہے اور انہوں نے یہ بالکل نہیں کہا تھا کہ کیمپ کو ختم کردینا چاہیے۔

’میں نے ایسا نہیں کہا ہے اور نہ ہی میں ایسا سوچتا ہوں، میں آپ لوگوں سے برائے مہربانی کہتا ہوں، بڑے احترام سے، مجھے جانیں کہ میں نہ کیا کہا تھا۔‘

اسی بارے میں