بغداد:خودکش حملے میں بتیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعرات کو بھی عراق میں سولہ افراد مختلف دھماکوں میں ہلاک ہوئے تھے

عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک شیعہ اکثریتی علاقے میں ہونے والے ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم بتیس افراد ہلاک اور ساٹھ کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

بم شہر کے الزعفرانيہ ڈسٹرکٹ میں اس وقت ہوا جب وہاں سے ایک جنازہ گزر رہا تھا۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ بمبار نے پہلے پولیس سٹیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے دھماکہ اس وقت کیا جب ایک دن پہلے گولی سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کا جنازہ پولیس گاڑیوں کی حفاظت میں لے جایا جا رہا تھا۔

الزعفرانيہ میں پرچون کی ایک دکان کے مالک بیالیس سالہ سلام حسین نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’دھماکہ بہت بڑا تھا۔‘

ان کی دکان میں کام کرنے والے ایک شخص اس دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے اور جب وہ انہیں ہسپتال لے کر جا رہے تھے تو انہوں نے کاریں جلتی ہوئی دیکھیں۔

جس جگہ خودکش بمبار کی کار پھٹی اس جگہ انہوں نے چاروں طرف انسانی گوشت کے ٹکڑے دیکھے۔

ہسپتالوں کے باہر مختلف افراد اپنے لاپتہ رشتہ داروں کو ڈھونڈ رہے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق ایک نرس نے بتایا کہ ’میں کچھ نہیں بتا سکتی، یہاں صرف بازو اور ٹانگیں ہیں، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کس کی ہیں۔‘

گزشتہ ماہ امریکی فوجیوں کے عراق سے چلے جانے کے بعد سے عراق میں شدت پسندوں کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ جمعرات کو بھی عراق میں سولہ افراد مختلف دھماکوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں