ڈرون حملے غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہیں: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر براک اوباما نے پہلی بار باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ امریکی جاسوس طیارے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مشتبہ شدت پسندوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ یہ حملے غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈرون حملوں پر پاکستان کی پوزیشن بہت واضح ہے اور اصولوں پر مبنی ہے۔

امریکی صدر نے ڈرون حملوں کی تصدیق گوگل اور یوٹیوب کے ساتھ ایک گھنٹہ کے طویل ’ہینگ آؤٹ‘ کے دوران کہی۔

گوگل اور یو ٹیوب کا ہینگ آؤٹ شروع ہونے سے پہلے ایک لاکھ تیس ہزار سوالات آئے۔ چھ افراد نے صدر اوباما سے آن لائن سوالات پوچھے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ڈرون طیاروں کے ذریعے بیشتر حملے پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا میں کیے گئے۔انہوں نے ان حملوں کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی قرار دیا۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ یہ حملے القاعدہ کے مشتبہ دہشت گرووں کے خلاف کیے گئے جو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں موجود تھے۔

امریکی صدر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ڈرون حملے غیر قانونی، خلافِ منشا اور ناقابلِ قبول ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی کو درگزر نہیں کر سکتے‘۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے جاسوس طیاروں کے حملے ایک معمول بن چکا ہے۔

امریکی غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک کل دو سو تراسی ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

امریکی اداروں کے مطابق دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار سات تک پہلے چار سالوں میں کل نو حملے ہوئے جبکہ دو ہزار آٹھ میں تینتیس، دو ہزار نو میں تریپن، دو ہزار دس میں سب سے زیادہ یعنی ایک سو اٹھارہ اور دو ہزار گیارہ میں ستر امریکی حملے ہوئے۔

پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہتا ہے اور ان حملوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر بے گناہ افراد نشانہ بنتے ہیں۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قبائلی عمائدین نے بین الاقوامی عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جب بھی تلخی کا شکار ہوئے ہیں ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار رہا ہے تاہم یہ تعطل مستقل بندش کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

گزشتہ سال چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں سلالہ کے سرحدی علاقے میں پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ڈرون حملوں کا سلسلہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے لیے تعطل کا شکار رہا تھا تاہم رواں برس جنوری کے دوسرے ہفتے سے یہ سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو چکا ہے۔

اس سے پہلے دو ہزار گیارہ کے شروع میں بھی چوبیس روز تک ڈرون حملے بند رہے تھے جب امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تلخی میں اضافہ ہوا تھا تاہم بعد میں جاسوس طیاروں کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں